Akhtar Saeed

اختر سعید

اختر سعید کی غزل

    خوبیٔ طرز مقالات سے کیا ہوتا ہے

    خوبیٔ طرز مقالات سے کیا ہوتا ہے بات کرتے رہے ہم بات سے کیا ہوتا ہے رات کٹ جائے تو پھر رات چلی آئے گی رات کٹ جائے گی اک رات سے کیا ہوتا ہے کسی جانب سے جواب آئے تو کچھ بات چلے کاوش حسن سوالات سے کیا ہوتا ہے جب کہ تقطیر رگ جاں سے بندھی ہے تقدیر بے خبر ذکر و مناجات سے کیا ہوتا ہے دان ...

    مزید پڑھیے

    دانا ہوئے بزرگ ہوئے رہنما ہوئے

    دانا ہوئے بزرگ ہوئے رہنما ہوئے وہ دن کہ ہم تھے شمع مجالس ہوا ہوئے ان کو نہیں دماغ تلذذ جہان میں جو ابتدا سے وقف غم انتہا ہوئے خورشید کی نگاہ سے شبنم ہے مشتہر وہ آشنا ہوئے ہیں تو سب آشنا ہوئے منزل ہے شہریارئ‌ عالم تو دیکھنا اس راہ میں ہزاروں قبیلے فنا ہوئے حد سے زیادہ ہم نے ...

    مزید پڑھیے

    مری نگاہ میں ہے خاک سیم و زر کا فسوں

    مری نگاہ میں ہے خاک سیم و زر کا فسوں ثبوت‌ معجزۂ رفتگان عالم ہوں دیا ہے مجھ کو مگر بے سرور ہنگامہ ملا ہے مجھ کو مگر وقف اضطراب سکوں نہ چاند میں ہے چمک اپنی اور نہ شبنم میں کروں تو کس کا زمانے میں اعتبار کروں جو دل میں بات ہے الفاظ میں نہیں آتی سو ایک بات ہے دل کی لگی کہوں نہ ...

    مزید پڑھیے

    جوں فوج کہ مفتوح ہو زنجیر میں آوے

    جوں فوج کہ مفتوح ہو زنجیر میں آوے الفاظ کا لشکر مری تحریر میں آوے اک خاص عنایت ہے کہ دیتے نہیں مجھ کو وہ درد کہ جو پنجۂ تدبیر میں آوے یکسر رگ منصور کی ہمت سے پرے ہے وہ علم کہ اک عرصۂ تقطیر میں آوے جو چاہے بھرے میں نے مصور سے کہا تھا کچھ رنگ محبت مری تصویر میں آوے وہ بات خوشا ...

    مزید پڑھیے

    بے چارگئ دوش ہے اور بار گراں ہے

    بے چارگئ دوش ہے اور بار گراں ہے اظہار پہ پابندی ہے اور منہ میں زباں ہے ہوتا ہے یہاں روز مرے درد کا سودا اے تیغ بکف روز مکافات کہاں ہے آزاد کرو خون کو بازار میں لاؤ صدیوں سے یہ محکوم رگوں ہی میں رواں ہے ہاں رنگ بہاراں ہے مگر اس کے لہو سے جو دست بہ دل مہر بہ لب درد بجاں ہے ہر سمت ...

    مزید پڑھیے

    ہے نسیم صبح آوارہ اسی کے نام پر

    ہے نسیم صبح آوارہ اسی کے نام پر بوئے گل ٹھہری ہوئی ہے جس کلی کے نام پر کچھ نہ نکلا دل میں داغ حسرت دل کے سوا ہائے کیا کیا تہمتیں تھیں آدمی کے نام پر پھر رہا ہوں کو بہ کو زنجیر رسوائی لیے ہے تماشا سا تماشا زندگی کے نام پر اب یہ عالم ہے کہ ہر پتھر سے ٹکراتا ہوں سر مار ڈالا ایک بت نے ...

    مزید پڑھیے

    اک عجب ہم نے ماجرا دیکھا

    اک عجب ہم نے ماجرا دیکھا درد برداشت سے سوا دیکھا دل بے چین کو کہاں لے جائیں اک جہاں سے اسے لگا دیکھا وائے اختر خدا کو بھول گئے جب کہیں کوئی آسرا دیکھا زہر محرومیٔ مسا چکھا قہر مسمومیٔ صبا دیکھا کوئی امید ہے تو غیروں سے بارہا خود کو آزما دیکھا پھول گلشن میں مور جنگل میں سیم ...

    مزید پڑھیے

    اخترؔ کو تو ریئے میں بھی ہے عار کیا کرے

    اخترؔ کو تو ریئے میں بھی ہے عار کیا کرے بیٹھا ہوا ہے دیر سے بے کار کیا کرے یک ہجوم درد اور اور ای تمام دل زیر پر لگائے ہے منقار کیا کرے تاریخ کہ رہی ہے کہ مٹتا نہیں ہے ظلم مختار کل بتا ترا سنسار کیا کرے کھینچے ہے سب کو دست فنا ایک سا تو پھر ایک سادہ لوح کرے یہاں عیار کیا کرے کوئی ...

    مزید پڑھیے

    ہمارے پاس ہے حکمت نہ راز کیا کیجے

    ہمارے پاس ہے حکمت نہ راز کیا کیجے سوائے درد دل جاں گداز کیا کیجے عنایتیں ہیں اگرچہ ہزار ہا لیکن بنے نہ بات تو بندہ نواز کیا کیجے نہ ضرب و تار سے رشتہ نہ دل فریبئ دم مرے خیال کو عالم ہے ساز کیا کیجے ز روئے فقہ جو سب سے زیادہ ہے معتوب ہماری اس سے بھی ہے ساز باز کیا کیجے جو جانتے ...

    مزید پڑھیے

    مبدۂ حسن سے کیسے یہ جدا ہے یکسر

    مبدۂ حسن سے کیسے یہ جدا ہے یکسر کہ زمان اور مکاں ایک ادا ہے یکسر یہ جو دی ہے ہمیں آزادئ افکار و عمل کوئی بتلاؤ جزا ہے کہ سزا ہے یکسر وقت ہے تیشہ و شمشیر کا جس میں کب سے وہ ہتھیلی ابھی مصروف دعا ہے یکسر مرحبا جشن جبلت کہ نہیں ہم پابند مرحبا زیست کہ آزاد حیا ہے یکسر بات کہنے کو ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2