Akhtar Saeed

اختر سعید

اختر سعید کے تمام مواد

20 غزل (Ghazal)

    خوبیٔ طرز مقالات سے کیا ہوتا ہے

    خوبیٔ طرز مقالات سے کیا ہوتا ہے بات کرتے رہے ہم بات سے کیا ہوتا ہے رات کٹ جائے تو پھر رات چلی آئے گی رات کٹ جائے گی اک رات سے کیا ہوتا ہے کسی جانب سے جواب آئے تو کچھ بات چلے کاوش حسن سوالات سے کیا ہوتا ہے جب کہ تقطیر رگ جاں سے بندھی ہے تقدیر بے خبر ذکر و مناجات سے کیا ہوتا ہے دان ...

    مزید پڑھیے

    دانا ہوئے بزرگ ہوئے رہنما ہوئے

    دانا ہوئے بزرگ ہوئے رہنما ہوئے وہ دن کہ ہم تھے شمع مجالس ہوا ہوئے ان کو نہیں دماغ تلذذ جہان میں جو ابتدا سے وقف غم انتہا ہوئے خورشید کی نگاہ سے شبنم ہے مشتہر وہ آشنا ہوئے ہیں تو سب آشنا ہوئے منزل ہے شہریارئ‌ عالم تو دیکھنا اس راہ میں ہزاروں قبیلے فنا ہوئے حد سے زیادہ ہم نے ...

    مزید پڑھیے

    مری نگاہ میں ہے خاک سیم و زر کا فسوں

    مری نگاہ میں ہے خاک سیم و زر کا فسوں ثبوت‌ معجزۂ رفتگان عالم ہوں دیا ہے مجھ کو مگر بے سرور ہنگامہ ملا ہے مجھ کو مگر وقف اضطراب سکوں نہ چاند میں ہے چمک اپنی اور نہ شبنم میں کروں تو کس کا زمانے میں اعتبار کروں جو دل میں بات ہے الفاظ میں نہیں آتی سو ایک بات ہے دل کی لگی کہوں نہ ...

    مزید پڑھیے

    جوں فوج کہ مفتوح ہو زنجیر میں آوے

    جوں فوج کہ مفتوح ہو زنجیر میں آوے الفاظ کا لشکر مری تحریر میں آوے اک خاص عنایت ہے کہ دیتے نہیں مجھ کو وہ درد کہ جو پنجۂ تدبیر میں آوے یکسر رگ منصور کی ہمت سے پرے ہے وہ علم کہ اک عرصۂ تقطیر میں آوے جو چاہے بھرے میں نے مصور سے کہا تھا کچھ رنگ محبت مری تصویر میں آوے وہ بات خوشا ...

    مزید پڑھیے

    بے چارگئ دوش ہے اور بار گراں ہے

    بے چارگئ دوش ہے اور بار گراں ہے اظہار پہ پابندی ہے اور منہ میں زباں ہے ہوتا ہے یہاں روز مرے درد کا سودا اے تیغ بکف روز مکافات کہاں ہے آزاد کرو خون کو بازار میں لاؤ صدیوں سے یہ محکوم رگوں ہی میں رواں ہے ہاں رنگ بہاراں ہے مگر اس کے لہو سے جو دست بہ دل مہر بہ لب درد بجاں ہے ہر سمت ...

    مزید پڑھیے

تمام