Akhtar Madhupuri

اختر مادھو پوری

اختر مادھو پوری کی غزل

    آہ لب تک دل ناکام نہ آنے پائے

    آہ لب تک دل ناکام نہ آنے پائے عظمت عشق پہ الزام نہ آنے پائے ہم سے قائم ترے میخانے کی عظمت ساقی اور ہم تک ہی کوئی جام نہ آنے پائے زیر ترتیب ہے تاریخ روایات وطن حکم ہے اس میں مرا نام نہ آنے پائے تیری آنکھوں کے اگر ہوں نہ اشارے ساقی جام میں بادۂ گلفام نہ آنے پائے مژدہ اے اہل چمن آ ...

    مزید پڑھیے

    ہے اگر لانا انقلاب نیا

    ہے اگر لانا انقلاب نیا پہلے جینے کا ہو حساب نیا میں نے دیکھا تھا ایک خواب نیا آئے دن اب ہے اضطراب نیا پیش لفظ انتساب باب نیا میں ہوں اک صاحب کتاب نیا میں اگاتا تھا نور کی فصلیں خواب تھا میرا اکتساب نیا رو بہ رو چہرہ تھا پرانا سا آئنہ دیتا کیا جواب نیا گم تھی بے خوابیوں میں ...

    مزید پڑھیے

    مجھے دن رات فکر آشیاں معلوم ہوتی ہے

    مجھے دن رات فکر آشیاں معلوم ہوتی ہے کہ برگشتہ نگاہ باغباں معلوم ہوتی ہے جو دل آزاد ہو تو ہر جگہ حاصل ہے آزادی قفس میں بھی بہار گلستاں معلوم ہوتی ہے پئے گلگشت شاید آج وہ جان بہار آیا چمن کی پتی پتی گلستاں معلوم ہوتی ہے اجڑتی آ رہی ہے مدتوں سے دیکھیے پھر بھی بہار باغ عالم بے خزاں ...

    مزید پڑھیے

    خود کو بدلنا مشکل ہوگا

    خود کو بدلنا مشکل ہوگا راستہ چلنا مشکل ہوگا باہر باہر پہرے ہوں گے گھر سے نکلنا مشکل ہوگا گرنا تو آسان ہے لیکن گر کے سنبھلنا مشکل ہوگا مظلوموں کی آہ نہ لینا پھولنا پھلنا مشکل ہوگا آگ پہ چلنے کی لت ڈالو پھول پہ چلنا مشکل ہوگا کالی روٹی کھانے والو اس کا نگلنا مشکل ہوگا دل کو ...

    مزید پڑھیے

    چاند تاروں میں جی نہیں لگتا

    چاند تاروں میں جی نہیں لگتا خوش نظاروں میں جی نہیں لگتا دل بجھا ہے کچھ اس طرح میرا اب بہاروں میں جی نہیں لگتا ناخدا مجھ کو ڈوب جانے دے اب کناروں میں جی نہیں لگتا مطربہ چھیڑ اب نہ ساز طرب نغمہ زاروں میں جی نہیں لگتا دل بہلتا ہے دل نگاروں میں غم گساروں میں جی نہیں لگتا یہ حسیں ...

    مزید پڑھیے

    جہان بے ثباتی میں تماشائے جہاں کب تک

    جہان بے ثباتی میں تماشائے جہاں کب تک چمکتے مہر و مہ تارے زمین و آسماں کب تک شب غم میں تجلی پر نہ اترا اے دل مضطر ستاروں کی یہ چشمک اور رقص کہکشاں کب تک سمندر کی خموشی ایک طوفاں ساتھ لائے گی کسی نا مہرباں کی یہ نگاہ مہرباں کب تک بڑھائے جا قدم تو بڑھ کے سرگرم عمل ہو جا یوں ہی تکتا ...

    مزید پڑھیے

    آہ دل پر اثر نہ ہو جائے

    آہ دل پر اثر نہ ہو جائے حسن کی آنکھ تر نہ ہو جائے داغ دل کی ترقیاں توبہ یہ ستارہ قمر نہ ہو جائے آشیاں تو بنا رہا ہوں مگر بجلیوں کو خبر نہ ہو جائے ڈر ہے گلشن کا آشیاں کا نہیں نذر برق و شرر نہ ہو جائے راز دل اس لئے نہیں کہتا عشق نا معتبر نہ ہو جائے دل سے ان کو بھلا تو دوں ...

    مزید پڑھیے

    حسن والوں کا اعتبار نہ کر

    حسن والوں کا اعتبار نہ کر خوش جمالوں کا اعتبار نہ کر سازش تیرگی میں جو ہوں شریک ان اجالوں کا اعتبار نہ کر کب بدل جائیں یہ نہیں معلوم ہم خیالوں کا اعتبار نہ کر راہزن راہبر کے بھیس میں ہیں ان کی چالوں کا اعتبار نہ کر جن کا الجھا سا ہر جواب ملے ان سوالوں کا اعتبار نہ کر جو خود ...

    مزید پڑھیے

    شہر کا شہر جلا اور اجالا نہ ہوا

    شہر کا شہر جلا اور اجالا نہ ہوا سانحہ کیا یہ مقدر کا نرالا نہ ہوا ہے فقط نام کو آزادئ اظہار خیال ورنہ کب کس کے لبوں پر یہاں تالا نہ ہوا ٹوٹتے شیشے کو دیکھا ہے زمانے بھر نے دل کے ٹکڑوں کا کوئی دیکھنے والا نہ ہوا جس نے پرکھا انہیں وہ تھی کوئی بے جان مشین دل کے زخموں کا بشر دیکھنے ...

    مزید پڑھیے

    حال دل بھی سنا کے کیا ہوگا

    حال دل بھی سنا کے کیا ہوگا بے وفا کیسے با وفا ہوگا درد حد سے اگر سوا ہوگا جان جائے گی اور کیا ہوگا نا توانوں پہ سو طرح کے ستم سوچ انجام ظلم کیا ہوگا جان دے دیں گے راہ الفت میں یوں محبت کا حق ادا ہوگا ہم تو جور و جفا کے خوگر ہیں آپ سے اس کا کیا گلہ ہوگا سود در سود بڑھتا جاتا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2