Akhtar Madhupuri

اختر مادھو پوری

اختر مادھو پوری کی غزل

    جو سخت تر ہے وہ مشکل ابھی نہیں آئی

    جو سخت تر ہے وہ مشکل ابھی نہیں آئی بڑھو کہ سرحد منزل ابھی نہیں آئی حیات ڈھونڈے گی جائے اماں نہ پائے گی وہ آزمائش قاتل ابھی نہیں آئی سن بلوغ کو پہونچا نہیں جنوں شاید کہ قید طوق و سلاسل ابھی نہیں آئی نہ جانے ہوں گے یہاں قتل کتنے حق والے سمجھ میں سازش باطل ابھی نہیں آئی خدا کا ...

    مزید پڑھیے

    یوں جو کھلتا ہے زمانے کا بھرم اچھا ہے

    یوں جو کھلتا ہے زمانے کا بھرم اچھا ہے ہم پہ ہوتے ہیں زمانے کے ستم اچھا ہے وہ قدم کیا جو تجسس میں رہے منزل کے بڑھ کے خود چوم لے منزل وہ قدم اچھا ہے ہے تمنائے اسیری تو کبھی اس میں الجھ گیسوئے وقت کا پیچ اچھا ہے خم اچھا ہے امن و انصاف و مساوات کی خاطر لوگو تم اٹھاؤ جو بغاوت کا علم ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2