مجھے دن رات فکر آشیاں معلوم ہوتی ہے

مجھے دن رات فکر آشیاں معلوم ہوتی ہے
کہ برگشتہ نگاہ باغباں معلوم ہوتی ہے


جو دل آزاد ہو تو ہر جگہ حاصل ہے آزادی
قفس میں بھی بہار گلستاں معلوم ہوتی ہے


پئے گلگشت شاید آج وہ جان بہار آیا
چمن کی پتی پتی گلستاں معلوم ہوتی ہے


اجڑتی آ رہی ہے مدتوں سے دیکھیے پھر بھی
بہار باغ عالم بے خزاں معلوم ہوتی ہے


تبسم ان کے ہونٹوں پر تڑپ ہے میرے سینے میں
کہاں بجلی چمکتی ہے کہاں معلوم ہوتی ہے


شفق پھولی ہوئی ہے ہر طرف خون شہیداں کی
زمین کوئے قاتل آسماں معلوم ہوتی ہے


کسی کی انجمن میں مجھ پہ یہ پابندیاں اخترؔ
ذرا سی بات پر کٹتی زباں معلوم ہوتی ہے