آہ لب تک دل ناکام نہ آنے پائے
آہ لب تک دل ناکام نہ آنے پائے
عظمت عشق پہ الزام نہ آنے پائے
ہم سے قائم ترے میخانے کی عظمت ساقی
اور ہم تک ہی کوئی جام نہ آنے پائے
زیر ترتیب ہے تاریخ روایات وطن
حکم ہے اس میں مرا نام نہ آنے پائے
تیری آنکھوں کے اگر ہوں نہ اشارے ساقی
جام میں بادۂ گلفام نہ آنے پائے
مژدہ اے اہل چمن آ تو گئی صبح بہار
اب ضرورت ہے کہ پھر شام نہ آنے پائے
دل شکن یوں تو ہے انجام محبت لیکن
دل میں اندیشۂ انجام نہ آنے پائے
ہے طلب گار مسرت تو زباں پر اے دوست
شکوۂ گردش ایام نہ آنے پائے
پی کے تھوڑی سی بہک جاتا ہے ساقی نے کہا
بزم میں اخترؔ بدنام نہ آنے پائے