آہ لب تک دل ناکام نہ آنے پائے
آہ لب تک دل ناکام نہ آنے پائے عظمت عشق پہ الزام نہ آنے پائے ہم سے قائم ترے میخانے کی عظمت ساقی اور ہم تک ہی کوئی جام نہ آنے پائے زیر ترتیب ہے تاریخ روایات وطن حکم ہے اس میں مرا نام نہ آنے پائے تیری آنکھوں کے اگر ہوں نہ اشارے ساقی جام میں بادۂ گلفام نہ آنے پائے مژدہ اے اہل چمن آ ...