حسن والوں کا اعتبار نہ کر

حسن والوں کا اعتبار نہ کر
خوش جمالوں کا اعتبار نہ کر


سازش تیرگی میں جو ہوں شریک
ان اجالوں کا اعتبار نہ کر


کب بدل جائیں یہ نہیں معلوم
ہم خیالوں کا اعتبار نہ کر


راہزن راہبر کے بھیس میں ہیں
ان کی چالوں کا اعتبار نہ کر


جن کا الجھا سا ہر جواب ملے
ان سوالوں کا اعتبار نہ کر


جو خود اپنی جگہ نہ ہوں مضبوط
ان حوالوں کا اعتبار نہ کر


ان کے دست حسیں کے گوندھے ہوئے
پھول مالوں کا اعتبار نہ کر


کہیں گمراہ کر نہ دیں اخترؔ
نیک فالوں کا اعتبار نہ کر