آہ دل پر اثر نہ ہو جائے

آہ دل پر اثر نہ ہو جائے
حسن کی آنکھ تر نہ ہو جائے


داغ دل کی ترقیاں توبہ
یہ ستارہ قمر نہ ہو جائے


آشیاں تو بنا رہا ہوں مگر
بجلیوں کو خبر نہ ہو جائے


ڈر ہے گلشن کا آشیاں کا نہیں
نذر برق و شرر نہ ہو جائے


راز دل اس لئے نہیں کہتا
عشق نا معتبر نہ ہو جائے


دل سے ان کو بھلا تو دوں لیکن
زندگی تلخ تر نہ ہو جائے


آتے آتے قریب منزل کے
بد گماں راہبر نہ ہو جائے


شام ایسی نہیں کوئی اخترؔ
جس کی پیدا سحر نہ ہو جائے