ذات کا قتل
انتونیو نے مانتیلا کی بوتل اٹھا کر اپنے گرم ماتھے کے ساتھ لگا دی۔ چاند کی کرنیں بوتل میں باقی ماندہ شراب کے قطروں میں جھلملائیں اور منعکس ہو کر اس کی کالی بھور مخمور آنکھوں میں اترتی چلی گئیں۔ ’’ویوا۔۔۔‘‘ اس کی بھرائی ہوئی آواز بل رنگ کی ہزاروں خالی نشستوں سے ٹکرا کر گونجی ...