افسانہ

سائبان

کہیں دور سے آتی ہوئی شہنائی کی آوازنے آج پھر اس کےان خوابیدہ جذبات میں ہلچل مچادی تھی جنھیں ان دس برسوں میں اس نے بڑی مشکلوں سے تھپک تھپک کر سلا یا تھا۔ اس نے پلٹ کر اپنے بغل والے بستر کی جانب دیکھا جو خالی پڑا تھا۔دل میں درد کی ایک خفیف سی لہراٹھی جسے دبا کر اس نے سوچا،کیا فرق ...

مزید پڑھیے

کوئی منزل نہیں

گاڑی اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔میں کھڑکی سے لگی اپنے خیالوں میں گم لمحہ لمحہ اس شہر سے دور ہوتی جا رہی تھی۔اس شہر سے جہاں یہ خوف غالب تھا کہ اگر کچھ دن اور یہاں رہ گئی تو بدنامی اور رسوائی کے چھینٹے میرے دامن کو داغدار کر دیں گے۔ گاڑی اب شہر کی حدود کو پار کر چکی تھی۔میں نے ...

مزید پڑھیے

بالاد ست

مدت بعد وہ وطن واپس آیاتھا جہاں سے اس کی بہت ساری تلخ و شیریں یادیں وابستہ تھیں۔جاتے وقت اس نے عہد کیا تھا کہ اَب یہاں لوٹ کر کبھی نہ آئے گا۔ لیکن نہ جانے وطن کی مٹی کی کشش تھی یا اپنوں کی محبت کہ بیس سال بعد وہ پھر یہاں کھڑا تھا۔ جب وہ اپنے قصبہ کی حدود میں داخل ہواتو اسے ایسالگا ...

مزید پڑھیے

ایک ہاری ہوئی کہانی

ابھی کچھ دن پہلے روزنامہ''ترنگ'' کے ادبی ایڈیشن میں ایک سکہ بند نقاد نے میرے تازہ ترین ناول ''محبت کے سات رنگ '' کو بازاری لٹریچر قرار دیتے ہوئے مجھے ادبی کنوئیں کےاس مینڈک سے تشبیہہ دی ہے جو اگلے سو سال بھی پھدکتا رہے تو شاعرانہ لفاظی اور غیر حقیقی موضوعات کی گرفت سے دامن نہیں ...

مزید پڑھیے

پہلی محبت کی آخری کہانی

(۱) دادی کی گود میں سر رکھ کر لیٹے ، کتنی ہی کہانیاں سنتا ۔ کبھی دین محمد لکڑ ہارے کا قصہ جسے مقدس درخت کاٹنے کی پاداش میں بندر بنا دیا جاتا ہے، کبھی خدا بخش کسان کی داستان جسے عمر بھر کی محنت اور سچائی کے عوض سونے کے سکوں سے بھری تھیلی ملتی ہے تو کبھی اسلم بِڈے کی کہانی جس کا قد بہت ...

مزید پڑھیے

درد کب ٹھہرے گا!

آج تمہارا خط آیا ہے! یونیورسٹی سے آتے ہی سامنے میز پر پڑے ہوئے ہلکے نیلے رنگ کے لفافے کے پتے کی خوبصورت تحریر میں میری نظریں الجھ کر رہ گئی ہیں۔ یہ تحریر جانی پہچانی سی معلوم ہورہی ہے۔میری نگاہیں اُن پیاری پیاری تحریروں کو چومنے لگی ہیں اور تم اِن کے درمیان سیاہ بادل کے پیچھے سے ...

مزید پڑھیے

یہ نہ تھی ہماری قسمت

اور میری نظریں فرحتؔ پر جم سی گئی ہیں۔ یادوں کے دیے جگمگا اُٹھے ہیں، ذہن کے پردے پر ماضی کی تصویریں اُجاگر ہوگئی ہیں اور حال نے مجھے آج سے پانچ سال پیچھے ڈھکیل دیا ہے کلاس میں پہنچتے ہی کریم کے چاروں طرف طلبا کا ہجوم دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ آج ضرور کوئی نئی بات ہوئی ہے کیوں کہ وہ ...

مزید پڑھیے

ڈائری ۸۳ء

پہلا دن، فقیر آتا ہے، صدا دیتا ہے، چلاجاتا ہے، پتہ نہیں کیا صدا دیتا ہے، کہاں سے آتا ہے، کہاں چلا جاتا ہے لیکن فقیر ہے اور صدا دیتا ہے۔ جمعرات ہو تو دس پیسے فی فقیر کے حساب سے اپنے رزق حلال سے نکالتا ہوں۔ محتاجوں، بیواؤں، یتیموں اور فقیروں کو خیرات دیتا ہوں۔ کر بھلا سو ہو بھلا۔ ...

مزید پڑھیے

آکٹوپس

اب اسے اپنا ہر قدم اکھاڑنا پڑ رہا تھا جیسے وہ کیچڑ میں بھاگ رہا ہو۔ سپورٹس شوز میں پیک شدہ پاؤں وزنی ہو رہے تھے۔ بدن آگے نکلتا مگر پاؤں گھسٹتے پیچھے رہ جاتے، دندان سازکے شوکیس میں رکھی بتیسی بھنچی ہوئی، دماغ کے خلیوں کو ایس۔ او۔ ایس بھیجا ہوا۔۔۔ صرف چند قدم اور۔۔۔ اذیت کے چند ...

مزید پڑھیے

پریم

اپنے آپ کو ہمیشہ کے لیے چھوڑجانا کیسا ہوتا ہے؟ انسان دوسروں کو تو نہیں چھوڑتا کہ وہ موجود رہتے ہیں، بیدار ہوتے ہیں، سوتے ہیں، کھاتے پیتے اور ہنستے بھی ہیں۔۔۔ وہ اپنے آپ کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ اپنے ہاتھوں کو، اپنی آنکھوں کو، پیاس اور بھوک کو، جاگنے اور مسکرانے کو بھی۔ جس لمحے وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 98 سے 233