درد آشنا لوگ
غیر ارادی طور پر میں نے اپنے قدم روک لیے، کہ کہیں میرے پیروں تلے کوئی لاش، کوئی زخمی نہ آجائے۔ مگر وہاں گرد و غُبار کے سوا کچھ نہ تھا۔دو ماہ سے بند اسکول میں اس کے سوا ہو بھی کیا سکتا تھا۔ مجھے لمحہ بھر کو ایسا لگا کہ جیسے کچھ لوگ خون میں لت پت ادھڑی ہوئی لاشوں کو سیاہ پلاسٹکوں میں ...