افسانہ

درد آشنا لوگ

غیر ارادی طور پر میں نے اپنے قدم روک لیے، کہ کہیں میرے پیروں تلے کوئی لاش، کوئی زخمی نہ آجائے۔ مگر وہاں گرد و غُبار کے سوا کچھ نہ تھا۔دو ماہ سے بند اسکول میں اس کے سوا ہو بھی کیا سکتا تھا۔ مجھے لمحہ بھر کو ایسا لگا کہ جیسے کچھ لوگ خون میں لت پت ادھڑی ہوئی لاشوں کو سیاہ پلاسٹکوں میں ...

مزید پڑھیے

کائنات

وہ جب سوئے تو تین تھے، مگر جاگے تو انہوں نے تیسرے کو نہ پایا۔ اس کے رنگوں کا تھیلا اور لکڑی کے تراشیدہ برش بھی دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ اس کی چادر بھی غائب تھی، جسے وہ ہمیشہ اوڑھے رکھتا تھا۔ یہ دونوں اپنی اپنی فطرت میں مختلف تھے۔ جیسے خیر و شر۔ تیسرا جو غائب ہوا، ایک مصور تھا جسے ...

مزید پڑھیے

چیونٹیو ں کی طرح مت چیخو

افسانے کے ان کرداروں سے ملنے اور ان کی دنیا میں داخل ہونے سے پہلے یہ جان لیجئے کہ چیونٹیوں کے چیخنے چلانے اور رونے کی آوازیں کوئی نہیں سنتا، بس وہ کچلی جاتی ہیں۔ تماشاگاہ میں بھیڑ ہو، شور ہو تو سچی آوازیں گم ہوجاتی ہیں۔ اور اگر لوگوں کی تقدیر کچھ دوسرے لوگوں کے ہاتھ میں ہو تو ...

مزید پڑھیے

بس اتنا ضروری ہے

کچھ دنوں سے جب میں بیدار ہوتی ہوں تو میرا ہاتھ بے ساختہ دوسرے تکیے کو چھونے لگتا ہے۔ میری طرح خالی پڑے تکیے کو۔۔۔ قریشیے کی بُنائی کو چُھوتے ہوئے میں انور کی یاد کی جھالر میں الجھ جاتی ہوں۔ یقیناًوہ بیدار ہوگئے ہوں گے۔ انہیں تو یوں بھی سویرے جاگنے کی عادت ہے۔وہ معمول کے مطابق ...

مزید پڑھیے

مایا جال

قلعہ نما سنگلاخ دیواروں کے پیچھے کی دُنیا سے آنی والی خبرسن کر اس کے پیروں تلے زمین سرک گئی۔ دیوار یں قہقہہ لگاتی اور سرسراتی ہوئی بلند سے بلند تر ہونے لگیں۔ سیلن زدہ ماحول میں اس کا دم گُھٹنے لگا، آنکھیں پتھرا گئیں اور آنسو درد کی پاتال میں گم ہوگئے۔ اس کا جسم کانپ اٹھا۔ مئی کی ...

مزید پڑھیے

آتش فشاں پر بنا گھر

اس نے جوں ہی دراز کو ہاتھ لگایا، یکایک دادی کی غصہ بھری آواز نے پیچھے سے جکڑ لیا۔ ’کیا پریشانی ہے تجھے؟‘ وہ گھبرا کر پلٹی۔ موٹے شیشوں والی عینک کے پیچھے دادی کی آنکھیں انگارے بنی دہک رہی تھیں۔ ’تجھے کتنی بار منع کیا ہے کہ ان درازوں کو ہاتھ مت لگایا کر۔ تجھے سمجھ میں نہیں آتا ...

مزید پڑھیے

گڈو

میں نے دروازے پر پڑے تالے میں چابی گھمائی۔ تالا ہلکی سی جنبش سے کھل گیا۔ لوہے کے دروازے کو میں نے اندر کی طرف دھکیلا۔ دروازہ کھڑکھڑاہٹ کے ساتھ کھلتا چلا گیا۔ اندر قدم رکھا تو دیکھا کہ سامنے ایک تنگ سی تقریباً چار فٹ چوڑی گلی ہے۔ فرش سیمنٹ کا اور جگہ جگہ سے اکھڑا ہوا ہے، جس کی وجہ ...

مزید پڑھیے

ایک اور عذاب

مندرا پریس کلب کی فٹ پاتھ پر بیٹھی خود کو ننگا کرنے کے لیے بے قرار تھی، تاکہ زندگی کی دُہر ی اذیت سے چھٹکارا مل سکے۔ وہ مسلسل بیس برس سے زبان کی گوری چمڑی سے چپکا ہوا سچ اگل دینا چاہتی تھی۔ وقت بھی کیسے کیسے پینترے بدلتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب وہ اپنے گورے رنگ سے بہت محبت کرتی تھی۔ ...

مزید پڑھیے

ترنم ہاؤس

افسانہ لکھنے کے لیے کبھی کبھی کوئی چھوٹی سی بات ہی بہت ہوتی ہے۔ جیسا کہ ترنم ہاؤس ایل پندرہ سو تینتالیس میں رہنے والے پچاس سالہ نواب الہ آبادی، ان کی انچاس سالہ بیوی ترنم جہاں ، دو بیٹے سہراب ، مہتاب اور بیٹی خانم جہاں کا یہ افسانہ جس میں مصنف کو کہانی گھڑنی نہیں پڑی، بلکہ وہ تو ...

مزید پڑھیے

مدیون کا نسیان

مدیون سیڑھیاں چڑھتے ہوے اچانک رک گیا۔ گردن جھکا کر دیکھا، ایڑیوں کے پیچھے اور پنجے کے آگے قدمچے گہری کھائی میں اترتے اور آسمان میں گم ہوتے ہوے محسوس ہورہے تھے۔ مگر دوسرے ہی لمحے کھائی میں اترنے اور آسمان میں گم ہونے کا خوفناک احساس جاتا رہا۔ سیڑھیاں بس اتنی ہی تھیں جنہیں شمار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 120 سے 233