افسانہ

گویم مشکل

مجھے حکم ہوا ہے کہ کہانی کا آغاز میں کروں۔ میں وہی قربان علی ہوں جس نے تمنا اور اس کی بیٹی گلاب کو دہلادینے والی حالت سے نکالا۔ ورنہ قسم بات بنانے والے کی سعید شاہ کے ساتھ جو ہوا، وہ ان کے ساتھ بھی ہوسکتا تھا۔ سعید شاہ میرا شاگرد، میرے چھوٹے بھائی جیسا ہے۔ اور میں تو ویسے بھی سید ...

مزید پڑھیے

احساس سے عاری شہر

مردہ لوگوں سے بھرا ہوا شہر ، یہاں کفن ہی کفن ملتے ہیں۔ حدِ نگاہ کتبے ہی کتبے ہیں۔ ڈھانچے ہی ڈھانچے۔ جیسے شہر نہ ہو ایک بہت بڑا قبرستان ہو۔ ہر قبر ایک دوسرے سے نزدیک مگر ایک دوسرے سے غافل۔ برابر میں کون ہے، نہیں معلوم۔ اوپر نیچے کتنے ہی دفن ہیں، کسی کو کسی کی خبر نہیں۔ بے ہنگم شور۔ ...

مزید پڑھیے

برفیلے لوگ

یہ ۱۹۸۸ء کا وسط ہے۔ آدم جان نے کار کو اچانک بریک لگایا۔ گاڑی خوفناک چرچراہٹ کے ساتھ ضدی بچے کی طرح رُک گئی۔ سامنے تار کول کی چمکتی ہوئی سڑک پر جا بجا چھوٹے چھوٹے شیشوں کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے، جنہیں سفید چمکتی دھوپ نے ہزاروں چھوٹے بڑے ہیروں میں تبدیل کردیا تھا۔ یقیناً یہ کسی کار ...

مزید پڑھیے

ڈراپ سین

ذوق بہت دنوں سے احتشام اللہ کے کردار میں الجھا ہوا تھا۔ اس نے اس کردار پر بہت محنت صرف کی تھی۔ مشاہدے اور تجربے کی آنچ پر اسے مہینوں تپا کر کندن بنایا تھا۔ وہ روز کچھ نہ کچھ اضافہ کرتا۔ زندگی کے رویوں۔۔۔ فرد کی الجھنوں۔۔۔ خوشی میں روح سے اٹھنے والی تھرکتی لہروں۔۔۔ غم میں ان ...

مزید پڑھیے

کہانی سے پہلے کا ماجرا

میں نے جوں ہی قلم سنبھالااسٹڈی تاریک ہوگئی۔ ’’ہتھ تیرے کی‘‘۔ منہ سے بے اختیارنکلا اور اچھی خاصی سوچی ہوئی کہانی دماغ سے اچھل کر تاریکی میں تحلیل ہوگئی۔ لمحہ بھر کو سامنے رکھے کاغذ بھی نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ یو پی ایس سے جو بلب اور پنکھے گھر کو روشن اور ہوادار رکھتے ہیں، کچھ ...

مزید پڑھیے

آغا وِلا

آغا وِلا میں زندگی خوشیوں کے تمام حسین رنگوں سے بھری ہوئی تھی۔ چاروں سمت قہقہے، رنگا رنگی، محبتوں کا امڈتا ہوا طوفان، جس میں تمام رشتے، تمام حوالے صرف محبتوں کے تھے۔ عیش و عشرت کی فراوانی میں ڈوبے شاداب چہرے، ہر چہرہ مطمئن و مسرور ،دُکھ درد کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔ ہر ...

مزید پڑھیے

نہ پاہے رکاب میں

ٹھیلے پر دھری پرانی کتابوں کو کھنگالتے ہوئے میری نگاہ بوسیدہ غیر مجلد کتاب پر پڑی۔ الٹ پلٹ کر دیکھا۔ کتاب کا عنوان اور مصنف کا نام غائب تھا۔ ورق الٹے تو اندازہ ہوا کہ کوئی کہانی ہے۔ مجھے اشتیاق ہوا۔ کاسموپولیٹن کے خصوصی شمارے ، ابوالفضل صدیقی کے افسانوں کا مجموعہ جوالا مکھ، ...

مزید پڑھیے

مشرق تیری بیٹی کو

وہ چاروں طرف پھیلے اندھیرے میں لاکھوں زندہ مگر بے حس انسانوں کے بیچ تیز ہواؤں سے نبرد آزما جلتی لالٹین ہاتھ میں لیے آگے ہی آگے بڑھتی جارہی تھی۔ اچانک ہوا کے تھپیڑے نے روشنی گل کردی۔ اندھیرا موت کی سیاہی میں تبدیل ہوگیا اور رگوں کو چیرتا شور جاگ اٹھا۔ آہ و بکا کرتی آوازیں۔۔۔ وہ ...

مزید پڑھیے

جنہیں نہیں ہونا تھا

ان دیکھی لکیر پار کرتے ہی میرے لیے یکایک سب کچھ بدل گیا۔ عجب سی کھلبلی مچ گئی او رہر طرف افراتفری سی پھیل گئی۔ روشن تصویریں دھندلے رنگوں میں ڈھل گئیں۔ سینکڑوں بلکہ لاکھوں ایک دوسرے میں پیوست اور پھر جدا ہوتے رنگ برنگے دائرے اور ان میں بنتی بگڑتی زندگی کی تصویریں، جنہیں اپنی جگہ ...

مزید پڑھیے

دھن چکر

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں اس سانحے کی کہانی لکھوں یا نہ لکھوں جسے برپا ہوتے ہوے شہر کی ایک گلی کے سنسان موڑنے، ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں انسانی جسموں سے اعضا نوچ لینے والے اوزاروں نے ، جوئے کے اڈے میں پھیلے ہوے کثیف دھوئیں نے، پانچ ستارہ ہوٹل والے کمرے کے دبیز پردوں نے، اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 119 سے 233