قومی زبان

چڑھے جو دھوپ تمازت سے جسم ہانپتے ہیں

چڑھے جو دھوپ تمازت سے جسم ہانپتے ہیں جو دن بجھے تو ستاروں سے رات ڈھانکتے ہیں اندھیری رات پر اسرار گھر مکیں چپ چاپ مہیب سائے کھلی کھڑکیوں میں جھانکتے ہیں خیال و فکر کی تقویم میں سر افلاک دیے جلاتے ہیں تارے افق پہ ٹانکتے ہیں شکن سے لہجے کی دل میں دراڑ پڑتی ہے سو بے رخی تیرے ...

مزید پڑھیے

پھر سر پہ شام آ گئی میں راستے میں ہوں

پھر سر پہ شام آ گئی میں راستے میں ہوں اک اجنبی سڑک ہے کسی حادثے میں ہوں اک گرد باد ہے مجھے حد نگاہ تک تنہا نہیں ہوں دھول بھرے قافلے میں ہوں تنہائیوں نے پھر ترا چہرہ پہن لیا تیرے بغیر بھی میں ترے دائرے میں ہوں تو نے تو مجھ کو عکس مقید سمجھ لیا تھوڑی سی دیر اور ترے آئنے میں ...

مزید پڑھیے

کوئی شفقت بھری سرکار نہیں ہے گھر میں

کوئی شفقت بھری سرکار نہیں ہے گھر میں جب سے بابا کی وہ دستار نہیں ہے گھر میں عمر کی بڑھتی تھکن سانس کی بیمار گھٹن ایک کمرہ بھی ہوا دار نہیں ہے گھر میں دکھ سنائیں کبھی گھبرائیں تو سر ٹکرائیں اس طرح کی کوئی دیوار نہیں ہے گھر میں کبھی آواز میں مرہم کبھی ماتھے پہ شکن میں سمجھتی تھی ...

مزید پڑھیے

اشک تھم گئے ہوں گے دل سنبھل گیا ہوگا

اشک تھم گئے ہوں گے دل سنبھل گیا ہوگا جانے کون ساعت پھر دم نکل گیا ہوگا اتنی آگ تو صاحب پورا گھر جلا دے گی آنچ دھیمی کر لیجے دودھ ابل گیا ہوگا مانگ اجاڑنے والو گود کیا اجاڑو گے ماں غریب ہو کر بھی لعل پل گیا ہوگا اجنبی خلاؤں میں ڈار سے بچھڑتے ہی جال بچھ گئے ہوں گے وار چل گیا ...

مزید پڑھیے

عشق کا گھاؤ جان میں رکھ کر بھول گئی

عشق کا گھاؤ جان میں رکھ کر بھول گئی خود کو آتش دان میں رکھ کر بھول گئی نرگس کے دو پھول اٹھا کر پھینک دئے اور آنکھیں گلدان میں رکھ کر بھول گئی کچھ آنسو تو آنکھوں میں چھپ جاتے ہیں کچھ آنسو مسکان میں رکھ کر بھول گئی گھونسلہ تھا اور شوخ ہوا کی ٹھوکر تھی تنکے میں طوفان میں رکھ کر ...

مزید پڑھیے

بے ثمر موسموں میں جنمی ہوں

بے ثمر موسموں میں جنمی ہوں زرد پتوں کا دکھ سمجھتی ہوں رفتگاں بھید اوڑھ لیتے ہیں اپنے ابا کی قبر ڈھونڈھتی ہوں میرا بچپن بچھڑ گیا مجھ سے اک سہیلی سے روٹھ بیٹھی ہوں خامشی کی گپھاؤں میں اکثر اپنی آواز سن کے سہمی ہوں گھر کی دیوار میں ہی رہتا ہے ایک سائے سے ڈرتی رہتی ہوں مجھ کو ...

مزید پڑھیے

جب سے پہچان میں نہیں ہوں میں

جب سے پہچان میں نہیں ہوں میں گھر کے دالان میں نہیں ہوں میں ہاتھ سے چیز چھوٹ جاتی ہے اپنے اوسان میں نہیں ہوں میں پھول کمھلا گیا تھا پھینک دیا اپنے گلدان میں نہیں ہوں میں ایک سجدے میں ہو چکی تحلیل شب کے وجدان میں نہیں ہوں میں جسم کو کون گھر میں رکھتا ہے جسم ہوں جان میں نہیں ہوں ...

مزید پڑھیے

ریت سے آندھیوں کا جھگڑا تھا

ریت سے آندھیوں کا جھگڑا تھا سانس در سانس دم الجھتا تھا وہ اکیلا ہی بھیڑ جیسا تھا وہ مرے چاروں اور چلتا تھا کھیل کھیلا چھپن چھپائی کا چھپنے والا کبھی نہ ملتا تھا اس برس ڈھ گئی ہیں دیواریں پچھلی بارش میں مور ناچا تھا سرخ جوڑا خرید لائی ماں جانے کن لکڑیوں میں جلنا تھا رات ...

مزید پڑھیے

یہ دستک اور یہ در میرا نہیں ہے

یہ دستک اور یہ در میرا نہیں ہے اب اس بستی میں گھر میرا نہیں سفر ہے اور ہی درپیش مجھ کو یہ مشت خاک گھر میرا نہیں ہے میں کس بارود میں بکھری پڑی ہوں یہ دھڑ میرا ہے سر میرا نہیں ہے مجھے میرے حوالے کر گیا ہے تو کیا ہے وہ اگر میرا نہیں ہے یہ کس آنگن میں جھکتا جا رہا ہے شجر میرا ہے گھر ...

مزید پڑھیے

ندی کو روک سکی تو ڈھلان باندھوں گی

ندی کو روک سکی تو ڈھلان باندھوں گی میں اپنی ناؤ پہ خود بادبان باندھوں گی یہ ابر برسا تو دھرتی غروب کر دے گا میں اپنی اوڑھنی میں آسمان باندھوں گی میں گر گئی تری دستار کو سنبھالنے میں روایتوں کو میں شایان شان باندھوں گی وہ میرے گھر کی ہر اک چیز توڑ دیتا ہے میں دل سے درد کی بوجھل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 980 سے 6203