چڑھے جو دھوپ تمازت سے جسم ہانپتے ہیں
چڑھے جو دھوپ تمازت سے جسم ہانپتے ہیں جو دن بجھے تو ستاروں سے رات ڈھانکتے ہیں اندھیری رات پر اسرار گھر مکیں چپ چاپ مہیب سائے کھلی کھڑکیوں میں جھانکتے ہیں خیال و فکر کی تقویم میں سر افلاک دیے جلاتے ہیں تارے افق پہ ٹانکتے ہیں شکن سے لہجے کی دل میں دراڑ پڑتی ہے سو بے رخی تیرے ...