قومی زبان

ہو رہا ہے ذکر پیہم آم کا

ہو رہا ہے ذکر پیہم آم کا آ رہا ہے پھر سے موسم آم کا نظم لکھ کر اس کے استقبال میں کر رہا ہوں خیر مقدم آم کا ان سے ہم رکھیں زیادہ ربط کیوں شوق جو رکھتے ہیں کم کم آم کا تب کہیں آتا ہے میرے دم میں دم نام جب لیتا ہوں ہمدم آم کا شوق سے پڑھتے ہیں اس کو خاص و عام جب قصیدہ لکھتے ہیں ہم آم ...

مزید پڑھیے

چلا آتا ہے خود انجام سے انجان ہے بکرا

چلا آتا ہے خود انجام سے انجان ہے بکرا نہیں ہرگز نہیں کس نے کہا نادان ہے بکرا جو سچ پوچھو تو اس رخ سے وہ ہم لوگوں سے بہتر ہے کہ اپنے خالق و مالک پہ خود قربان ہے بکرا حقیقت میں وہی بکرا ہے اچھا دیکھ کر جس کو قصائی کہ اٹھے فربہ ہے عالی شان ہے بکرا بھلا تجھ تک پہنچ سکتے ہیں ہم انسان ...

مزید پڑھیے

سانس در سانس رائیگانی میں

سانس در سانس رائیگانی میں کٹ گئی عمر بے دھیانی میں حجرۂ ذات میں چراغ جلا راہ نمائی تھی راہ فانی میں میں سناتی تھی داستان طرب درد ہنستا رہا کہانی میں ہیں زمان و مکان ہجرت میں عالم ہو کی لا مکانی میں کوئی صورت سنبھل نہیں پائی وقت کی بے کراں روانی میں بات بے بات ہنستی رہتی ...

مزید پڑھیے

گلاس اک کانچ کا ٹوٹا پڑا ہے

گلاس اک کانچ کا ٹوٹا پڑا ہے مجھے لگتا ہے وہ گھر آ گیا ہے ابابیلیں جو یوں چکرا رہی ہیں سندیسہ آسماں تک جا چکا ہے یہ گھر شاید ابھی تازہ گرا ہے کوئی ملبے کے نیچے جی رہا ہے یہ پہلے اس قدر میلا نہیں تھا نہ جانے آسماں کو کیا ہوا ہے ادھر کچھ آہٹیں ہونے لگی ہیں کوئی خالی مکاں میں چل رہا ...

مزید پڑھیے

جو موج خوشبوؤں کی تھی گلاب سے نکل گئی

جو موج خوشبوؤں کی تھی گلاب سے نکل گئی میں مضمحل تھی اس قدر شباب سے نکل گئی یہ زندگی یہ رخصتی اسی کی ہیں امانتیں شکستہ جسم میں ترے عذاب سے نکل گئی میں لکھ رہی تھی داستاں ترا بھی نام آ گیا کہانی اپنے آپ ہی کتاب سے نکل گئی وہ لمس بڑھ رہا تھا اب قریب سے قریب تر سو میں نے فیصلہ کیا ...

مزید پڑھیے

آنسو گرا تو کانچ کا موتی بکھر گیا

آنسو گرا تو کانچ کا موتی بکھر گیا پھر صبح تک دوپٹا ستاروں سے بھر گیا میں چنری ڈھونڈھتی رہی اور اتنی دیر میں دروازے پر کھڑا ہوا اک خواب مر گیا سرما کی چاندنی تھی جوانی گزر گئی جھلسا رہی ہے دھوپ بڑھاپا ٹھہر گیا میں رفتگاں کی بات پہ بے ساختہ ہنسی انجام اس ہنسی کا بھی افسردہ کر ...

مزید پڑھیے

غبار وقت میں اب کس کو کھو رہی ہوں میں

غبار وقت میں اب کس کو کھو رہی ہوں میں یہ بارشوں کا ہے موسم کہ رو رہی ہوں میں یہ چاند پورا تھا بے اختیار گھٹنے لگا یہ کیا مقام ہے کم عمر ہو رہی ہوں میں اس ابر باراں میں منظر برسنے لگتے ہیں برس رہی ہے گھٹا بال دھو رہی ہوں میں میں گرد باد کا اک سر پھرا بگولا تھی خلائیں اوڑھ کے روپوش ...

مزید پڑھیے

ایک بلور سی مورت تھی سراپے میں سحرؔ

ایک بلور سی مورت تھی سراپے میں سحرؔ چھن سے ٹوٹی ہے مگر ایک چھناکے میں سحرؔ پاؤں کی انگلیاں مڑ جاتی ہیں بیٹھے بیٹھے چیونٹیاں رینگتی ہیں تن کے برادے میں سحرؔ ٹوٹتے رہتے ہیں کچھ خواب ستاروں جیسے کرچیاں پھیلتی رہتی ہیں خرابے میں سحرؔ کاغذوں میں تو لکھا ہوگا اسی گھر کا پتا خود وہ ...

مزید پڑھیے

مجھ سے لکنت ہوئی اور بات سنبھالی اس نے

مجھ سے لکنت ہوئی اور بات سنبھالی اس نے بس کبھی دیکھی نہیں آنکھ کی لالی اس نے وہ گلے ملتا ہے ملبوس بچا کر اپنا زندگی کیسی کلف دار بنا لی اس نے اجنبی سمت میں پرواز تجسس اس کا دم بخود گھر سے الگ جھوک بسا لی اس نے اتنا معدوم ہوا وہ کہ نظر سے بچھڑا لمس کی یاد بھی پوروں سے اٹھا لی اس ...

مزید پڑھیے

کانوں میں ناچتی تھی کسی بانسری کی لہر

کانوں میں ناچتی تھی کسی بانسری کی لہر آنچل میں بھر کے لائے تھے ہم چاندنی کی لہر پھر تیر کس رہا تھا مرے دل کی سیدھ میں تاراج کر گئی مجھے شرمندگی کی لہر دریا کو کس کے ہجر نے پامال کر دیا پھر چاند رات میں اٹھی دیوانگی کی لہر پتھر تراشتے تھے تری صورتوں کے ہم اور سر میں جاگتی تھی تری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 979 سے 6203