قومی زبان

کوئی لہجہ کوئی جملہ کوئی چہرا نکل آیا

کوئی لہجہ کوئی جملہ کوئی چہرا نکل آیا پرانے طاق کے سامان سے کیا کیا نکل آیا بظاہر اجنبی بستی سے جب کچھ دیر باتیں کیں یہاں کی ایک اک شے سے مرا رشتہ نکل آیا مرے آنسو ہوئے تھے جذب جس مٹی میں اب اس پر کہیں پودا کہیں سبزہ کہیں چشمہ نکل آیا خدا نے ایک ہی مٹی سے گوندھا سب کو اک جیسا مگر ...

مزید پڑھیے

سہ پہر ہی سے کوئی شکل بناتی ہے یہ شام

سہ پہر ہی سے کوئی شکل بناتی ہے یہ شام خود جو روتی ہے مجھے بھی تو رلاتی ہے یہ شام جو بھی دیوار اٹھاتی ہے گراتی ہے یہ شام شام کے وقت بہت دھول اڑاتی ہے یہ شام ٹھہری ٹھہری سی تھکی ہاری مصیبت میں گھری ایسا لگتا ہے کہیں دور سے آتی ہے یہ شام ایک بے نام سی الجھن کی طرح پھرتی ہے شہر سے روز ...

مزید پڑھیے

حادثوں نے اسے بھی توڑ دیا (ردیف .. ی)

حادثوں نے اسے بھی توڑ دیا ریزہ ریزہ بکھر گئی میں بھی اک بھنور میں رہا ہے وہ بھی سدا اور کنارے نہ لگ سکی میں بھی اس نے صحرا کی ریت کو اوڑھا خاک میں خاک ہو گئی میں بھی اس نے خود کو بدل لیا آخر اور پہلی سی کب رہی میں بھی میرے دل کو بھی وہ نہ راس آیا اس کے دل سے اتر گئی میں بھی اس کے ...

مزید پڑھیے

ہواۓ سبز کا جھونکا کوئی غنچہ کھلاتا ہے

ہواۓ سبز کا جھونکا کوئی غنچہ کھلاتا ہے خزاؤں کا طلسم زرد آخر ٹوٹ جاتا ہے گلوں کے مخملیں آنچل نمی سے بھیگ جاتے ہیں کسی کی یاد میں شب بھر فلک آنسو بہاتا ہے کسی بے مہر ساعت میں تمہارا مسکرا دینا شب تاریک میں جیسے ستارا ٹمٹماتا ہے تعاقب تتلیوں کا پر اٹھا لانا پرندوں کے کسی جگنو کو ...

مزید پڑھیے

کرے گا یاد ہمیں دور ہم اگر جائیں

کرے گا یاد ہمیں دور ہم اگر جائیں اس اشتیاق میں جی چاہتا ہے مر جائیں یہ کہہ رہا تھا ہمیں ڈوبتا ہوا سورج سفر تمام ہوا اپنے اپنے گھر جائیں طلوع شمس کی کرنوں نے یہ پیام دیا اجالے بانٹتے جائیں جدھر جائیں دکھاتے ہیں جو ہمیں آئنہ کبھی اس میں خود اپنے عکس کو دیکھیں تو آپ ڈر جائیں نہ ...

مزید پڑھیے

چراغ شام تھا دن بھر بجھا رہا کوئی

چراغ شام تھا دن بھر بجھا رہا کوئی غروب شمس کے ہوتے ہی جل گیا کوئی بیان کر نہیں سکتا کبھی محاسن عشق کوئی ردیف غزل میں نہ قافیہ کوئی رفاقتوں میں عجب طرز اجنبیت تھا کہ ساتھ رہ کہ بھی ہم سے رہا جدا کوئی یہ رنگ درد کے آتے نہیں سخن میں یوں ہی نہال دل پہ مرے زخم ہے کھلا کوئی مرے سفر ...

مزید پڑھیے

جو گر جاؤں سنبھلنا جانتی ہوں

جو گر جاؤں سنبھلنا جانتی ہوں حوادث سے نمٹنا جانتی ہوں شکست آئنہ تک بات پہنچے میں اس درجہ سنورنا جانتی ہوں ہے میری سادگی میں حسن ایسا ترے دل میں اترنا جانتی ہوں بھروسہ رکھنا تم میری وفا پر میں انگاروں پہ چلنا جانتی ہوں نہیں قائل میں ہرگز خودکشی کی مگر میں تجھ پہ مرنا جانتی ...

مزید پڑھیے

مری دھڑکنوں کو اچھال کر

مری دھڑکنوں کو اچھال کر اے فشار خون دھمال کر کہ جو دیکھے سنگ اچھال دے اے جنون میرا وہ حال کر مجھے کچھ تو میری خبر ملے مجھے مجھ میں تھوڑا بحال کر ترے بس میں ہو تو دکھا کبھی مجھے اپنے دل سے نکال کر میں کہ مدتوں سے ہوں لاپتا مجھے ڈھونڈ میرا خیال کر

مزید پڑھیے

لاکھ کوشش سے اداسی نہ چھپا پاتا ہوں

لاکھ کوشش سے اداسی نہ چھپا پاتا ہوں اپنے لہجے سے میں پہچان لیا جاتا ہوں لے تو آتی ہے دکھائی نہیں دیتا کوئی بانسری سن کے تعاقب میں نکل آتا ہوں یوں تو کر لیتا ہوں میں اس سے ہزاروں باتیں ہے کوئی بات جسے کرنے سے گھبراتا ہوں میں کہیں دور نکل جاؤں اگر ساتھ اپنے اس سے ملنے کے لیے خود ...

مزید پڑھیے

بھیگنے کی شدید خواہش ہے

بھیگنے کی شدید خواہش ہے بند کمرہ ہے تیز بارش ہے ہر کسی کو جنوں نہیں ملتا یہ کسی شخص کی نوازش ہے ایسے ممنونیت سے جی رہا ہوں زندگی یا کوئی سفارش ہے چھوڑ دی ناؤ بہتے پانی میں یہ مری پہلی پہلی کاوش ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 947 سے 6203