قومی زبان

دے رہا ہے ثمر اداسی کا

دے رہا ہے ثمر اداسی کا میرے دل میں شجر اداسی کا پورے تن کو بنا کے مٹی سے دل بنایا مگر اداسی کا مجھ سے اک بار تو سبب تو پوچھ اے مرے بے خبر اداسی کا تو مداوا نہ کر سکے گا کبھی اے مرے چارہ گر اداسی کا آنکھ ویراں ہے ذہن گم صم ہے اور دل ہے نگر اداسی کا میں نے دیکھا اداس نظروں سے موسموں ...

مزید پڑھیے

کسی نے پھر سے لگائی صدا اداسی کی

کسی نے پھر سے لگائی صدا اداسی کی پلٹ کے آنے لگی ہے فضا اداسی کی بہت اڑے گا یہاں پر فسردگی کا غبار کہ پھر سے چلنے لگی ہے ہوا اداسی کی زمین دل پہ محبت کی آب یاری کو بہت ہی ٹوٹ کے برسی گھٹا اداسی کی نظر نظر میں اداسی دکھائی دینے لگی نگر نگر میں ہے پھیلی وبا اداسی کی کسی طبیب کسی ...

مزید پڑھیے

زمانے کی فصیلوں کو گرا کر

زمانے کی فصیلوں کو گرا کر کبھی دیکھیں گے خود کو آزما کر مرے دل پر بھی نازل ہو سکینت مرے مرشد مرے حق میں دعا کر تمہاری راہ کو روشن کیا ہے چراغ جان کو میں نے جلا کر کسی دن ہم تمہاری خاکداں کو چلے جائیں گے اک ٹھوکر لگا کر تمہارا راستہ ہموار کر دوں میں اپنی ذات کا پتھر ہٹا کر فلک ...

مزید پڑھیے

بحر میں سوچتی تھی میں تم کو

بحر میں سوچتی تھی میں تم کو شعر میں ڈھالتی تھی میں تم کو سارے جگ میں تلاشنا تو الگ تم میں بھی کھوجتی تھی میں تم کو مختلف تم نہیں تھے دنیا سے مختلف سوچتی تھی میں تم کو کھو کے مجھ کو یہ سوچتے ہو نا کس قدر چاہتی تھی میں تم کو مجھ کو ہر غم نوازنے والے ہر خوشی سونپتی تھی میں تم کو تم ...

مزید پڑھیے

سراب شب بھی ہے خواب شکستہ پا بھی ہے

سراب شب بھی ہے خواب شکستہ پا بھی ہے کہ نیند مانگتے رہنے کی کچھ سزا بھی ہے تمام عمر چنوں گی میں ریزہ ریزہ تجھے پس غبار نگہ ایک آئینہ بھی ہے سپرد رقص کیا میں نے ہر تمنا کو لہو کے شور کی اب کوئی انتہا بھی ہے میں کیوں نہ ایک ہی قطرہ سے سیر ہو جاؤں کسی کی پیاس کو دریا کبھی ملا بھی ...

مزید پڑھیے

چاند کے ساتھ جل اٹھی میں بھی

چاند کے ساتھ جل اٹھی میں بھی دیر تک بام پر رہی میں بھی کیا ہوا ڈھل رہی ہے شام اگر ہے وہی تو ابھی وہی میں بھی تو جو بھولا تو میں بھی بھول گئی ورنہ بھولی نہ تھی کبھی میں بھی لب دیوار و در تو پتھر تھے تیرے آگے خموش تھی میں بھی کسی کو معلوم تیری راتوں میں اک ستارہ بنی رہی میں بھی بے ...

مزید پڑھیے

ہوا پہ چل رہا ہے چاند راہ وار کی طرح

ہوا پہ چل رہا ہے چاند راہ وار کی طرح قدم اٹھا رہی ہے رات اک سوار کی طرح فصیل وادئ خیال سے اتر رہی ہے شب کسی خموش اور اداس آبشار کی طرح تڑپ رہا ہے بارشوں میں میرے جسم کا شجر سیاہ ابر میں گھرے ہوئے چنار کی طرح انہی اداسیوں کی کائنات میں کبھی تو میں خزاں کو جیت لوں گی موسم بہار کی ...

مزید پڑھیے

غلط فہمی کسی کی دور کرتا رہ گیا ہوں

غلط فہمی کسی کی دور کرتا رہ گیا ہوں کوئی پیغام ہوں میں اور لکھا رہ گیا ہوں بہت تکلیف دیتا ہے ترا خاموش رہنا مسلسل بولنے سے میں اکیلا رہ گیا ہوں کوئی دیکھے بنا گزرا ہے میرے سامنے سے کسی کا ہاتھ ہوں میں اور پھیلا رہ گیا ہوں بہت آگے نکلنے کی سزا ہونے سے پہلے بہت پیچھے میں دانستہ ...

مزید پڑھیے

کچھ دنوں سے میں کہیں مصروف ہوں

کچھ دنوں سے میں کہیں مصروف ہوں اے مری شام حسیں مصروف ہوں یہ محبت ہے نہیں شیشہ گری کام ہے نازک تریں مصروف ہوں اس کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا وہ کہیں یا میں کہیں مصروف ہوں اس چمن میں اک فقط تو ہی نہیں دیکھ ابھی میں یاسمیں مصروف ہوں اک ذرا مہلت کروں گا میں سپرد جان جان آفریں مصروف ...

مزید پڑھیے

بھیڑ میں راستہ بنائے گی

بھیڑ میں راستہ بنائے گی وہ مرے ساتھ ساتھ جائے گی میں کہیں دھول میں اٹا ہوں گا وہ مجھے جھاڑ کر اٹھائے گی میں کہاں تک اسے سنبھالوں گا وہ کہاں تک مجھے چھپائے گی تیز چلتے ہوئے مرے ہم راہ وہ پسینے میں بھیگ جائے گی اب جسے دیکھ دیکھ جیتا ہوں شکل وہ دھیان میں نہ آئے گی میں چلا جاؤں گا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 948 سے 6203