دے رہا ہے ثمر اداسی کا
دے رہا ہے ثمر اداسی کا میرے دل میں شجر اداسی کا پورے تن کو بنا کے مٹی سے دل بنایا مگر اداسی کا مجھ سے اک بار تو سبب تو پوچھ اے مرے بے خبر اداسی کا تو مداوا نہ کر سکے گا کبھی اے مرے چارہ گر اداسی کا آنکھ ویراں ہے ذہن گم صم ہے اور دل ہے نگر اداسی کا میں نے دیکھا اداس نظروں سے موسموں ...