قومی زبان

دور صحرا میں جہاں دھوپ شجر رکھتی ہے

دور صحرا میں جہاں دھوپ شجر رکھتی ہے آنکھ کیا شے ہے کہاں جا کے نظر رکھتی ہے اور کچھ روز ابھی صور نہ پھونکا جائے اس کے دربار میں دنیا ابھی سر رکھتی ہے لوگ منزل پہ بہت خوش ہیں مگر منزل بھی لمحہ لمحہ پس امکان سفر رکھتی ہے آؤ اس شخص کی روداد سنیں غور کریں سرخ روئی بھی جسے خاک بسر ...

مزید پڑھیے

لوگ حیران ہیں ہم کیوں یہ کیا کرتے ہیں

لوگ حیران ہیں ہم کیوں یہ کیا کرتے ہیں زخم کو بھول کے مرہم کا گلا کرتے ہیں کبھی خوشبو کبھی جگنو کبھی سبزہ کبھی چاند ایک تیرے لئے کس کس کو خفا کرتے ہیں ہم تو ڈوبے بھی نکل آئے بھی پھر ڈوبے بھی لوگ دریا کو کنارے سے تکا کرتے ہیں ہیں تو میرے ہی قبیلے کے یہ سب لوگ مگر میری ہی راہ کو ...

مزید پڑھیے

اک عذاب ہوتا ہے روز جی کا کھونا بھی

اک عذاب ہوتا ہے روز جی کا کھونا بھی رو کے مسکرانا بھی مسکرا کے رونا بھی رونقیں تھی شہروں میں برکتیں محلوں میں اب کہاں میسر ہے گھر میں گھر کا ہونا بھی دل کے کھیل میں ہر دم احتیاط لازم ہے ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے ورنہ یہ کھلونا بھی دیدنی ہے ساحل پر یہ غروب کا منظر بہہ رہا ہے پانی میں ...

مزید پڑھیے

یہ جو ربط رو بہ زوال ہے یہ سوال ہے

یہ جو ربط رو بہ زوال ہے یہ سوال ہے مجھے اس کا کتنا ملال ہے یہ سوال ہے یہ جو سر پہ میرے وبال ہے یہ سوال ہے یہ جو گرد و پیش کا حال ہے یہ سوال ہے مجھے کیا غرض مرے دشمنوں کا ہدف ہے کیا مرے پاس کون سی ڈھال ہے یہ سوال ہے مرے سارے خواب ہیں معتبر میں ہوں در بہ در یہ عروج ہے کہ زوال ہے یہ ...

مزید پڑھیے

ایک اک موج کو سونے کی قبا دیتی ہے

ایک اک موج کو سونے کی قبا دیتی ہے شام سورج کو سمندر میں چھپا دیتی ہے ایک چہرا مجھے روزانہ سکوں دیتا ہے ایک تصویر مجھے روز رلا دیتی ہے عیب شہرت میں نہیں اس کا نشہ قاتل ہے یہ ہوا کتنے چراغوں کو بجھا دیتی ہے لوگ آتے ہیں ٹھہرتے ہیں گزر جاتے ہیں یہ زمیں خود ہی گزر گاہ بنا دیتی ...

مزید پڑھیے

آج بھی جس کی ہے امید وہ کل آئے ہوئے

آج بھی جس کی ہے امید وہ کل آئے ہوئے ان درختوں پہ زمانہ ہوا پھل آئے ہوئے کوئی چہرا ہے جو لگتا نہ ہو مرجھایا ہوا کوئی پیشانی ہے جس پر نہ ہوں بل آئے ہوئے اک نظر دیکھ لے شاید تجھے یاد آ جائیں ہم وہی ہیں تری محفل سے نکل آئے ہوئے جیسے ہر چیز نگاہوں میں ٹھہرنا چاہے دیکھ لینا کبھی موسم ...

مزید پڑھیے

میں ہوں زندہ بس اس فسانے تک

میں ہوں زندہ بس اس فسانے تک یاد آنے سے بھول جانے تک تم انا میں گنوا رہے ہو مگر مجھ کو ڈھونڈو گے تم زمانے تک خود بھی اپنا وقار کھو دو گے مجھ کو تا دیر آزمانے تک اپنا دامن نہ تم جلا بیٹھو دیکھنا میرا دل جلانے تک حوصلہ ہے مجھے ستانے کا رو نہ دینا مجھے رلانے تک زندگی کیا ہے کب خبر ...

مزید پڑھیے

آج موقع ہے جو کہنا ہے مری جاں کہیے

آج موقع ہے جو کہنا ہے مری جاں کہیے پھر نہ شاید ہو کبھی وقت مہرباں کہیے اتنی قبریں ہیں امیدوں کی مرے دل میں کہ اب شہر دل کو بھی مرے شہر خموشاں کہیے یوں تو اس شہر میں سب دوست ہیں اپنے لیکن کس کو ہمدرد کسے درد کا درماں کہیے تیرگی راتوں کی جھیلی ہے کہ آئے گی کبھی صبح اک ایسی جسے صبح ...

مزید پڑھیے

اے خرد اور جنوں خدا حافظ

اے خرد اور جنوں خدا حافظ اے دل بے سکوں خدا حافظ رخصتی اپنی ذات سے چاہوں آج خود سے کہوں خدا حافظ مجھ کو اذن مفارقت ہے دوست پھر نہ شاید ملوں خدا حافظ تجھ کو مشکل ہے تو جدائی کی ابتدا میں کروں خدا حافظ یہ گماں تک نہ تھا مجھے اک دن تجھ سے کہنا ہے یوں خدا حافظ روح کو کرب سے رہائی ...

مزید پڑھیے

محبت میں کمی آنے لگی ہے

محبت میں کمی آنے لگی ہے اسے مصروفیت کھانے لگی ہے ابھی تم تھے اجالا تھا مگر اب اچانک تیرگی چھانے لگی ہے سکوں ملنے لگا ہے اب جنوں سے مری وحشت مجھے بھانے لگی ہے دلوں کو ڈس رہی ہے بد گمانی یہ ناگن زہر پھیلانے لگی ہے سہیلی ہے مری برسوں پرانی اداسی مجھ کو خوش آنے لگی ہے عجب سی دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 946 سے 6203