قومی زبان

غموں کے پھول سر شاخ مسکراتے ہیں

غموں کے پھول سر شاخ مسکراتے ہیں اداسیوں کے یہ موسم کہاں سے آتے ہیں بچھڑنے والوں کو الزام کیوں دیا جائے دلوں کا کیا ہے بنا بات ٹوٹ جاتے ہیں ترا خیال جو بدلا جنوں میں ہوش آیا یہ راستے تو کہیں اور لے کے جاتے ہیں پھر ایک شام ترے سنگ خود کو بھول آئے سنانے والے کئی داستاں سناتے ...

مزید پڑھیے

یہ ابتدا ہے ابھی باب اختتام کہاں

یہ ابتدا ہے ابھی باب اختتام کہاں لہو ترنگ کا قصہ ہوا تمام کہاں لکھی ہے خون سے ہم نے حکایت ہستی مگر کتاب میں ہوگا ہمارا نام کہاں ہمارا نام نہ پوچھو نہ کچھ پتا پوچھو ہماری صبح کہاں ہے ہماری شام کہاں ہمیں تو کچھ بھی نہیں ہے خبر کہ اب کے ہم اگر اٹھیں گے یہاں سے تو پھر قیام ...

مزید پڑھیے

کس سے کہئے دل کی بات

کس سے کہئے دل کی بات اپنی عزت اپنے ہات تم بن سونے ہیں یوں دن جیسے بول رہی ہو رات کیسی شادی کیسا غم اپنے اپنے محسوسات عشق ہے یہ کچھ کھیل نہیں کس کی مات اور کیسی مات دیکھ چکا ہوں حشر کا دن کاٹ چکا ہوں ہجر کی رات ہر الزام مجھے تسلیم اپنے دل پر رکھئے ہات لوٹے ہیں راتوں کے دن چمکی ہے ساقی ...

مزید پڑھیے

سچی باتوں سے کھڑے سرکار کے ہوتے ہیں کان

سچی باتوں سے کھڑے سرکار کے ہوتے ہیں کان دھیرے دھیرے بولئے دیوار کے ہوتے ہیں کان دیجئے مجھ کو سزا پیغامبر کا کیا قصور گرم کیوں اس مجرم گفتار کے ہوتے ہیں کان باغ میں غنچہ جو چٹکا میں خوشی سے پھول اٹھا آشنا کتنے صدائے یار کے ہوتے ہیں کان میکدے میں کیوں نہ خالی جائے پھر واعظ کی بات جب ...

مزید پڑھیے

لکھنؤ

ماضی کی تجلی سے معمور یہ کاشانہ احساس مسلماں کو کر دیتا ہے دیوانہ اللہ رے بیدردی طوفان حوادث کی دنیا میں حقیقت بھی بن جاتی ہے افسانہ عالم کی نگاہوں سے اترے ہوئے ایوانو بے ساختہ اشکوں کا حاضر ہے یہ نذرانہ اب حسن کی محفل میں حسرت سی برستی ہے وہ غمزۂ ہندی ہیں نے عشوۂ ترکانہ غم عظمت ...

مزید پڑھیے

ساقی

بتاؤں کیا جو رنگ گردش ایام ہے ساقی جہاں کا ذرہ ذرہ کشتۂ آلام ہے ساقی معاذ اللہ اب ہر ہر قدم پر دام ہے ساقی گلستاں میں یہ آزادی کا فیض عام ہے ساقی سمجھ سکتا ہے کون اس راز کو جز اہل مے خانہ لباس صبح میں کتنی بھیانک شام ہے ساقی قفس کیسا نشیمن کیا یہ سب کہنے کی باتیں ہیں نہ جب آرام تھا ...

مزید پڑھیے

بہار شباب

محتسب کے ہوش اڑانے کا زمانہ آ گیا بے جھجک پینے پلانے کا زمانہ آ گیا جام آتش زیر پا کی اوٹ لے کر ساقیا بوتلوں میں ڈوب جانے کا زمانہ آ گیا کائنات ہوش پر کالی گھٹائیں چھا گئیں یوم شب تابی منانے کا زمانہ آ گیا پھر خیال عارض تاباں نے لیں انگڑائیاں رات کو پھر دن بنانے کا زمانہ آ گیا مست ...

مزید پڑھیے

ٹھہرا پانی

چھل چھل کرتی دھارا پانی کی ذہن کو جیسے آئینہ دکھائے دم دم بڑھتی جیون دھارا کا بھرم بتائے پر وقت جیسا شیتل جل بھی مٹھی میں سے چھن جاتا ہے خالی مٹھی بھیگی بھیگی یاد دلائے شیتل جل کی آس پاس سب ٹھہرا ٹھہرا ہے جیسے دھارا جم سی گئی ہو جیون جیسے تھم سا گیا ہو اس ٹھہرے ٹھہرے گدلے پانی ...

مزید پڑھیے

دل ایذا طلب لے تیرا کہنا کر لیا میں نے

دل ایذا طلب لے تیرا کہنا کر لیا میں نے کسی کے ہجر میں جینا گوارا کر لیا میں نے بت پیماں شکن سے انتقاماً ہی سہی لیکن ستم ہے وعدۂ ترک تمنا کر لیا میں نے نیاز عشق کو صورت نہ جب کوئی نظر آئی جنون بندگی میں خود کو سجدہ کر لیا میں نے وفا نا آشنا اس سادگی کی داد دے مجھ کو سمجھ کر تیری ...

مزید پڑھیے

بروز حشر مرے ساتھ دل لگی ہی تو ہے

بروز حشر مرے ساتھ دل لگی ہی تو ہے کہ جیسے بات کوئی آپ سے چھپی ہی تو ہے نہ چھیڑو بادہ کشو میکدے میں واعظ کو بہک کے آ گیا بیچارہ آدمی ہی تو ہے قصور ہو گیا قدموں پہ لوٹ جانے کا برا نہ مانیے سرکار بے خودی ہی تو ہے ریاض خلد کا اتنا بڑھا چڑھا کے بیاں کہ جیسے وہ مرے محبوب کی گلی ہی تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 849 سے 6203