دلدل میں دھنس گئے ہم دے کر تمہیں سہارا کیا اور چاہتے ہو
دلدل میں دھنس گئے ہم دے کر تمہیں سہارا کیا اور چاہتے ہو جو کچھ بھی تھا ہمارا وہ سب ہوا تمہارا کیا اور چاہتے ہو ہم سے اگر گلہ ہے تم کو نہ دے سکے کچھ تو آؤ شوق سے تم اک جاں بچی ہے اپنی لے لو اسے خدارا کیا اور چاہتے ہو اپنی وفا کے بدلے دیکھو ہمارے سر پر بارش ہے پتھروں کی یہ گھر نہیں ...