قومی زبان

اپنا گھر بھی کوئی آسیب کا گھر لگتا ہے

اپنا گھر بھی کوئی آسیب کا گھر لگتا ہے بند دروازہ جو کھل جائے تو ڈر لگتا ہے بعد مدت کے ملاقات ہوئی ہے اس سے فرق اتنا ہے کہ اب اہل نظر لگتا ہے اس زمانے میں بھی کچھ لوگ ہیں فن کے استاد کام کوئی بھی کریں دست ہنر لگتا ہے جس نے جی چاہا اسے لوٹ کے پامال کیا اپنا دل بھی ہمیں دلی سا نگر ...

مزید پڑھیے

جو چاہتے ہو کہ منزل تمہاری جادہ ہو

جو چاہتے ہو کہ منزل تمہاری جادہ ہو تو اپنا ذہن بھی اس کے لیے کشادہ ہو وہ یاد آئے تو اپنا وجود ہی نہ ملے نہ یاد آئے تو مجھ کو تھکن زیادہ ہو پہاڑ کاٹ دوں سورج کو ہاتھ پر رکھ لوں ذرا خیال میں شامل اگر ارادہ ہو سمجھ سکو جو زمانے کے تم نشیب و فراز تو اپنے عہد کے بچوں سے استفادہ ہو یہ ...

مزید پڑھیے

کسی کی چاہ میں دل کو جلانا ٹھیک ہے کیا

کسی کی چاہ میں دل کو جلانا ٹھیک ہے کیا خود اپنے آپ کو یوں آزمانا ٹھیک ہے کیا شکار کرتے ہیں اب لوگ ایک تیر سے دو کہیں نگاہ کہیں پر نشانہ ٹھیک ہے کیا بہت سی باتوں کو دل میں بھی رکھنا پڑتا ہے ہر ایک بات ہر اک کو بتانا ٹھیک ہے کیا گلاب لب تو بدن چاند آتشیں رخسار نظر کے سامنے اتنا ...

مزید پڑھیے

یوں بظاہر دیکھے تو یار سب

یوں بظاہر دیکھے تو یار سب وقت پڑنے پر یہی بیکار سب مصلحت ہے حق نظر انداز کر حق کہا جس نے چڑھے وہ دار سب ہم انا کی پوٹلی تھامے رہے ہاتھ خالی تھے ہوئے وہ پار سب اے خدا تو نے بنائی تھیں وہ کیا جس کی آنکھوں سے ہوئے سرشار سب کچھ سکوں شاید میسر آئے گا چھوڑ کے دیکھا تھا یہ گھر بار ...

مزید پڑھیے

اجنبی بن کے تو گزرا مت کر

اجنبی بن کے تو گزرا مت کر دوستی کا یوں تماشا مت کر تیری آنکھیں نہیں دو جگنو ہیں بے سبب ان کو بھگویا مت کر اس کے آنے کا گماں ہوتا ہے اے ہوا پردا ہلایا مت کر میں مسافر ہوں سفر قسمت ہے میرے بارے میں تو سوچا مت کر زندگی ہو کہ محبت ہو شمسؔ ایسی چیزوں پہ بھروسہ مت کر

مزید پڑھیے

نصیحت

باپ نے بیٹے کو بلوا کر یہ پوچھا کیا ہوا امتحاں کا آج ہی تو تھا نتیجہ کیا ہوا یہ کہا بیٹے نے فوراً اپنا سینہ تان کر آپ خوش ہوں گے یقیناً یہ حقیقت جان کر کم ہی کرتے ہیں کیا جو آپ کی اولاد نے سامنے سب کے کہا مجھ سے مرے استاد نے ہم تمہیں جانے نہ دیں گے اس جماعت سے ابھی تم ہی رونق ہو یہاں ...

مزید پڑھیے

دل کی دل ہی میں رہی

لے کے وہ آئی ہوئی تھیں اپنے شوہر سے طلاق چاہتی تھیں اہلیہ کو میں بھی دوں داغ فراق ساتھ اپنے لائی تھیں وہ چھ عدد بچوں کو بھی اور کہتی تھیں کہ کر دو اپنے چھ بچوں کو عاق کوٹھیاں کاریں کئی اور بینک بیلنس بے حساب شہر میں تھا ہر جگہ مشہور ان کا طمطراق سر کڑاہی میں ہو جیسے گھی میں پانچوں ...

مزید پڑھیے

ہمارے بھی ہیں مہرباں

ان کو ہم اپنا دوست لکھیں آشنا لکھیں ہمدم لکھیں رفیق لکھیں ہم نوا لکھیں شعر و ادب سے ان کو تعلق ہے کس قدر طاقت کہاں قلم میں کہ یہ ماجرا لکھیں لکھنے میں کچھ نہ کچھ ہیں وہ مصروف رات دن کاغذ قلم دوات میں ان کو فنا لکھیں نقد و نظر میں ہے وہ مہارت کے ہم انہیں اقلیم نظم و نثر کا فرماں روا ...

مزید پڑھیے

دادی اماں کا نعمت خانہ

دادی کا تھا دولت خانہ گھر کیا تھا اک جنت خانہ بچپن میرا گزرا اس میں بے شک تھا وہ شفقت خانہ باورچی خانے میں اس کے لکڑی کا تھا نعمت خانہ خانے اس میں اتنے سارے سمجھو جیسے حیرت خانہ کھانے پینے کی چیزوں کا لگتا تھا وہ برکت خانہ شیرینی بھی نمکینی بھی ہر خانہ تھا لذت خانہ دودھ اس میں اور ...

مزید پڑھیے

فیس بک

تھے محلے میں ہی بس دو چار دوست انگنت ہیں اب سمندر پار دوست فیس بک کی ہیں کرم فرمائیاں ساری دنیا میں ہیں واقف کار، دوست ان میں کچھ نادار کچھ خوش حال ہیں کچھ ہیں دنیا دار کچھ دیں دار دوست صاحب کردار ہیں ان میں کئی ہیں مگر وہ بھی جو ہیں فنکار دوست فیس بک سے ہی مجھے حاصل ہوئے جب ہوئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 833 سے 6203