کوئی شے نہیں یہاں مستقل یہ عجب یہاں کا نظام ہے
کوئی شے نہیں یہاں مستقل یہ عجب یہاں کا نظام ہے کبھی دھوپ ہے کبھی چھاؤں ہے کبھی صبح ہے کبھی شام ہے وہ جفا کریں تو جفا کریں میں وفا سے باز نہ آؤں گا انہیں اپنے کام سے کام ہے مجھے اپنے کام سے کام ہے جو ہماری نظریں نہ پا سکیں تو ہماری نظروں کی ہے خطا ترا جلوہ پہلے بھی عام تھا ترا جلوہ ...