قومی زبان

کوئی شے نہیں یہاں مستقل یہ عجب یہاں کا نظام ہے

کوئی شے نہیں یہاں مستقل یہ عجب یہاں کا نظام ہے کبھی دھوپ ہے کبھی چھاؤں ہے کبھی صبح ہے کبھی شام ہے وہ جفا کریں تو جفا کریں میں وفا سے باز نہ آؤں گا انہیں اپنے کام سے کام ہے مجھے اپنے کام سے کام ہے جو ہماری نظریں نہ پا سکیں تو ہماری نظروں کی ہے خطا ترا جلوہ پہلے بھی عام تھا ترا جلوہ ...

مزید پڑھیے

ہم پہ رکھے گئے الزام نہ جانے کیا کیا

ہم پہ رکھے گئے الزام نہ جانے کیا کیا بن گئے ایک محبت کے فسانے کیا کیا منزل دار و رسن قید ستم دشت بلا پائے ہیں اہل محبت نے ٹھکانے کیا کیا کوئی انداز ندامت کوئی نالہ کوئی اشک ڈھونڈے ہیں چشم کرم تو نے بہانے کیا کیا کبھی آندھی کبھی طوفاں کبھی شعلے کبھی برق میرے گلشن پہ بھی گزرے ہیں ...

مزید پڑھیے

ذکر بہار بھی رہا ذکر خزاں کے ساتھ

ذکر بہار بھی رہا ذکر خزاں کے ساتھ تیری بھی داستاں ہے مری داستاں کے ساتھ ان کا بھی کچھ خیال رہے اہل کارواں جو آ رہے ہیں گرد رہ کارواں کے ساتھ اس وقت رنگ لائے گا افسانۂ وفا دل کا لہو جب آئے گا اشک رواں کے ساتھ ہر چیز اجنبی سی ہے ہر شخص غیر ہے دنیا بدل گئی نگہ مہرباں کے ساتھ شاربؔ ...

مزید پڑھیے

اگر یہ کرکے دکھلاؤ تو جانیں

اگر یہ کرکے دکھلاؤ تو جانیں رہائی خود سے جو پاؤ تو جانیں زمانے کو نصیحت کرنے والو کبھی خود کو بھی سمجھاؤ تو جانیں خوشی کے ہیں بہت گاہک جہاں میں کسی کا درد اپناؤ تو جانیں تمہیں اس پار جانے کا یقیں ہے سہارا یہ بھی ٹھکراؤ تو جانیں سنا ہے دوست منزل آشنا ہو کسی کو راہ پر لاؤ تو ...

مزید پڑھیے

محبت ہٹ رہی ہے درمیاں سے

محبت ہٹ رہی ہے درمیاں سے زمیں ٹکرا نہ جائے آسماں سے وہ منزل سخت ہے ہر امتحاں سے محبت رخ بدلتی ہے جہاں سے ہزاروں ماہ و انجم ہیں تہ خاک زمیں کچھ کم نہیں ہے آسماں سے منور ہیں ابھی تک وہ مقامات میں تیرے ساتھ گزرا ہوں جہاں سے زمیں کی پستیوں میں کھو گئے ہیں زمیں ٹکرانے والے آسماں ...

مزید پڑھیے

دنیائے ستم زیر و زبر ہو کے رہے گی

دنیائے ستم زیر و زبر ہو کے رہے گی جب رات ہوئی ہے تو سحر ہو کے رہے گی تلوار سے جاگے کہ نسیم سحری سے ہشیار مگر روح بشر ہو کے رہے گی بن جائیں گے گل راہ میں بکھرے ہوئے کانٹے ہمت ہے تو تکمیل سفر ہو کے رہے گی یہ حسن تصور مجھے مرنے نہیں دیتا اک دن مری جانب وہ نظر ہو کے رہے گی تم خون تمنا ...

مزید پڑھیے

خلوص سجدہ ہر اک حال میں مقدم ہے

خلوص سجدہ ہر اک حال میں مقدم ہے وہیں پہ دل بھی جھکا دے جہاں جبیں خم ہے ہزار جلووں سے پر نور بزم عالم ہے مگر چراغ محبت کی روشنی کم ہے ہمارے حال پریشاں پہ مسکرا دینا بڑا لطیف یہ انداز پرسش‌‌ غم ہے حیات عشق امیدوں پہ کاٹنے والو خبر بھی ہے کہ امیدوں کی زندگی کم ہے قفس میں تھے تو ...

مزید پڑھیے

غم اٹھاتے ہیں وہی اکثر خوشی پانے کے بعد

غم اٹھاتے ہیں وہی اکثر خوشی پانے کے بعد جو خزاں کو بھول جاتے ہیں بہار آنے کے بعد زندگی یوں کٹ رہی ہے ان کے ٹھکرانے کے بعد جیسے اک محفل کی حالت شمع بجھ جانے کے بعد اہل کشتی تم کو یہ ہر موج دیتی ہے پیام پاؤ گے ساحل مگر طوفاں سے ٹکرانے کے بعد جو بھی پیاسا آئے اس کی پیاس بجھنا ...

مزید پڑھیے

تفکرات زمانہ سے ہو کے بیگانے

تفکرات زمانہ سے ہو کے بیگانے یہ کس خیال میں الجھے ہوئے ہیں دیوانے ہر ایک ہنستا ہے لیکن یہ کوئی کیا جانے یہ بن گئے کہ بنائے گئے ہیں دیوانے نگاہ عشق میں شاہ و گدا برابر ہیں نگاہ عشق کوئی امتیاز کیا جانے کسی کے اٹھنے سے سونی نہ ہوگی بزم کوئی بہار شمع سلامت ہزار پروانے وہی جہاں ...

مزید پڑھیے

مشکل یہ امتیاز تری راہ گزر میں ہے

مشکل یہ امتیاز تری راہ گزر میں ہے منزل سفر میں ہے کہ مسافر سفر میں ہے ہوں مضطرب مگر تری صورت نظر میں ہے پہلو بھی اک سکون کا درد جگر میں ہے تھوڑی سی خاک میں نے اٹھا لی زمین سے اب ساری زندگی کا خلاصہ نظر میں ہے اے آفتاب صبح ادھر بھی کوئی کرن مدت سے اک غریب امید سحر میں ہے پوچھو نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 828 سے 6203