قومی زبان

کچھ تو اے سیلانی کہہ

کچھ تو اے سیلانی کہہ کہہ کچھ بہتے پانی کہہ شہر کے شور سے بھاگا ہوں مجھ سے کچھ ویرانی کہہ ٹک ٹک دیکھا کرتی ہے کہہ کچھ گڑیاں رانی کہہ کچھ تو ہو احساس نیا کوئی بات پرانی کہہ کہاں کہاں بھٹکائے گا تو اسے دانہ پانی کہہ میرا بھی چھٹکارا ہو جو ہے دل میں ٹھانی کہہ اتنا تو کر اے ...

مزید پڑھیے

ہوا کے دوش پہ بادل کی مشک خالی ہے

ہوا کے دوش پہ بادل کی مشک خالی ہے جو سب کو بانٹتا پھرتا تھا خود سوالی ہے کسی کو مار کے خوش ہو رہے ہیں دہشت گرد کہیں پہ شام غریباں کہیں دوالی ہے تمہارے سامنے کیسے زباں کو جنبش دیں تمہارے شہر میں سچ بولنا بھی گالی ہے

مزید پڑھیے

ہمارے جسم کے اندر بھی کوئی رہتا ہے

ہمارے جسم کے اندر بھی کوئی رہتا ہے مگر یہ کیسے کہیں ہم کہ وہ فرشتہ ہے عجیب شخص ہے وہ پیاس کے جزیروں کا پہن کے دھوپ سدا مقتلوں میں رہتا ہے نظر ہے دن کے چمکتے لباس پر سب کی قبائے شام کے پیوند کون گنتا ہے ہماری عریاں ہتھیلی پہ اب بھی شام و سحر یہ کون ہے جو گہر آنسوؤں کے رکھتا ...

مزید پڑھیے

دوستی میں فاصلے ہوتے نہیں

دوستی میں فاصلے ہوتے نہیں پیار میں یہ تجزیے ہوتے نہیں کیا ضروری ہے کہ وہ مجرم بھی ہوں جن کے حق میں فیصلے ہوتے نہیں سوچ کر تم یہ تعلق توڑتے ٹوٹ کر پتے ہرے ہوتے نہیں روشنی ہوتی نہیں اس بزم میں جس میں شامل دل جلے ہوتے نہیں معرکے سر ہوتے ہیں جن کے طفیل ان کے اکثر تذکرے ہوتے ...

مزید پڑھیے

مجھے یہ راستہ پہچانتا ہے

مجھے یہ راستہ پہچانتا ہے کہ ہر ذرے سے میرا رابطہ ہے دریچہ آپ کھل جاتا ہے کوئی کسی کھڑکی سے ماضی جھانکتا ہے خدا میرا مجھے یوں بخش دے گا مری مجبوریاں وہ جانتا ہے کھرا سونا سمجھتا ہوگا مجھ کو مجھے جو آگ میں وہ ڈالتا ہے اسے لگتے ہیں سارے لوگ بونے وہ اپنے قد سے سب کو ناپتا ہے وہ ...

مزید پڑھیے

آئنہ دیکھوں مگر کیا دیکھوں

آئنہ دیکھوں مگر کیا دیکھوں خود کو ہاتھوں سے پھسلتا دیکھوں منزل شوق کہیں اور نہیں ڈوب جاؤں تو کنارا دیکھوں کوئی قاتل ہی کہیں مل جائے ایک انسان تو زندہ دیکھوں وہ جو آیا ہے تو کیا آیا ہے سامنے اور ہی چہرا دیکھوں خلد کو اس لیے چھوڑ آیا تھا یہ تمنا تھی کہ دنیا دیکھوں آج پھر دل ...

مزید پڑھیے

خود سے اتنا ہی آشنا ہوں میں

خود سے اتنا ہی آشنا ہوں میں اک کہانی کی ابتدا ہوں میں ہرن سونے کا تو کہاں ہوگا اس کے کہنے پہ چل پڑا ہوں میں سنگ نفرت کے تو میں سہہ لوں گا صرف پھولوں سے ڈر رہا ہوں میں چاند تارے گواہ ہیں اس کے ساتھ ان کے جلا بجھا ہوں میں پیار کے ایک بول کے بدلے خود کو سستے میں بیچتا ہوں میں حاصل ...

مزید پڑھیے

زمانے بھر میں رسوائی ہوئی ہے

زمانے بھر میں رسوائی ہوئی ہے بہت اپنی پذیرائی ہوئی ہے بھلاوا جس کا ہم کو دے رہے ہو وہ جنت اپنی ٹھکرائی ہوئی ہے کہے گا کون اس کو مسکراہٹ جو رخ پر تو نے چپکائی ہوئی ہے نکالو بھیڑ سے مجھ کو نکالو وبال جاں یہ تنہائی ہوئی ہے خدایا پوچھ تو ان رہبروں سے یہ خلقت کس کی بہکائی ہوئی ...

مزید پڑھیے

اک قیامت ہے جوانی اک قیامت ہے شباب

اک قیامت ہے جوانی اک قیامت ہے شباب ہر تبسم ایک طوفاں ہر نظر اک انقلاب ہر طرف ایک آہ و زاری ہر طرف ایک اضطراب کتنی سوغاتیں لیے آیا ہے دور انقلاب ساغر و مینا پٹک دے توڑ دے چنگ و رباب دیکھ سر پر آ چکا ہے آفتاب انقلاب عشق کے دستور دنیا سے الگ دستور ہیں اس کی گمنامی میں شہرت اس کی ...

مزید پڑھیے

داستاں کہہ کے پریشاں دل ناکام نہ ہو

داستاں کہہ کے پریشاں دل ناکام نہ ہو اس خموشی میں بھی پنہاں کوئی پیغام نہ ہو عشق میں بھی ہے تقاضا مری خودداری کا جو مرے دل کو ملی ہے وہ خلش عام نہ ہو مانگنے ہی کا طریقہ نہیں آتا ہم کو غیر ممکن ہے تری چشم کرم عام نہ ہو پھول کے سائے میں کانٹوں کو بھی رہنے دیجے صبح کی قدر نہ کی جائے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 827 سے 6203