بھول بیٹھے ساری دنیا عاشقی کی خاطر
بھول بیٹھے ساری دنیا عاشقی کی خاطر عاشقی بھی چھوڑ دی پھر نوکری کی خاطر مار ڈالا ہر خوشی کو خامشی کی خاطر کیا نہیں اس نے کیا میری ہنسی کی خاطر مفلسی ایسی عدو کو بھی نہ بخشے مولیٰ بیچنا ہو جو چراغاں روشنی کی خاطر جانے کتنے لوگ گزرے مجھ سے ہو کر بھائی منتظر میں رہ گیا اک آدمی کی ...