احوال ایک سفر کا
اجنبی سبزہ زاروں میں حد نظر تک بنفشہ کے پھول اجنبی تو نہیں تھے نہ ہیں وہ تو راہ سفر کے اجالے بھی تھے ہم سفر بھی لگے داستانیں سناتے بھی تھے اور سنتے بھی تھے اب کے موسم تمہیں یاد کرتے رہے اور میں چپ رہی
اجنبی سبزہ زاروں میں حد نظر تک بنفشہ کے پھول اجنبی تو نہیں تھے نہ ہیں وہ تو راہ سفر کے اجالے بھی تھے ہم سفر بھی لگے داستانیں سناتے بھی تھے اور سنتے بھی تھے اب کے موسم تمہیں یاد کرتے رہے اور میں چپ رہی
سال ہا سال محبت جو بنا کرتی ہے رشتۂ قلب و نظر پلۂ ریشم کی طرح ایک جھونکا بھی حوادث کا اسے کافی ہے پہلوئے گل میں دھڑکتی ہوئی شبنم کی طرح یہ محبت کے بنائے ہوئے ایوان بلند ایک ٹھوکر بھی زمانے کی نہیں سہہ سکتے آبگینے یہ بہت نازک و نارستہ ہیں موج کی گود میں تا دیر نہیں رہ سکتے گرم ...
بے کواڑ دروازے راہ دیکھتے ہوں گے طاق بے چراغوں کے اک کرن اجالے کی بھیک مانگتے ہوں گے کیوں جھجک گئے راہی کیوں ٹھٹک گئے راہی ڈھونڈنے کسے جاؤ انتظار کس کا ہو راستے میں کچھ ساتھی رہ بدل بھی جاتے ہیں پھر کبھی نہ ملنے کو کچھ بچھڑ بھی جاتے ہیں قافلہ کبھی ٹھہرا قافلہ کہاں ٹھہرا راہ کیوں ...
بے نوا ہیں کہ تجھے صوت و نوا بھی دی ہے جس نے دل توڑ دئے اس کو دعا بھی دی ہے وہ جو طوفاں کو سفینہ کبھی ساحل سمجھے یورش قطرۂ شبنم سے خفا کیا ہوں گے ایک بار اور حساب دل و دلدار کرو نقد جاں نذر ہوئی جنس یقیں لے کے چلو ھجلہ ناز سے آتے ہیں بلاوے اب کے آخری بار چلو آخری دیدار کرو
تم جو قاتل نہ مسیحا ٹھہرے نہ علاج شب ہجراں نہ غم چارہ گراں نہ کوئی دشنۂ پنہاں نہ کہیں خنجر سم آلودہ نہ قریب رگ جاں تم تو اس عہد کے انساں ہو جسے وادی مرگ میں جینے کا ہنر آتا تھا مدتوں پہلے بھی جب رخت سفر باندھا تھا ہاتھ جب دست دعا تھے اپنے پانو زنجیر کے حلقوں سے کٹے جاتے تھے لفظ ...
اسے تو ہوش ہی نہ تھا کھلی ہتھیلیوں پہ جو نصاب ہجر لکھ گیا کہ وقت کیسے تھم گیا
جب اس کے ساتھ تھی میں اس وسیع کائنات میں نفس نفس قدم قدم نظر نظر امیر تھی اور اب غبار روز و شب کے جام میں اسیر ہوں
جب جہاں میں پیٹ سب کا ہی ہے بھرتی روٹی منہ چڑھاتی روز و شب پھر کیوں مرا ہی روٹی روز چولھے میں جلاتا ہے جو خود داری کو بھوک پھر اس کی مٹائے کیسے اس کی روٹی عمر اتنی تھی کہ روٹی ماں کے ہاتھوں کھاتا مجھ کو تو اس عمر میں کھانے لگی تھی روٹی ناچتی ہے بھوک جب بھی چار دن آنگن میں تب لہو ...
جاتے جاتے یہ تکلف بھی نبھاتے جائیے عشق کے ظلم و ستم سارے بھلاتے جائیے مفلسوں کو اک زباں اس کے لیے دے دی گئی صاحبوں کی ہاں میں بس ہاں ہاں ملاتے جائیے راہ بربادی پہ جانا ہے تو جائیں شوق سے ہاں مگر اپنے یہ نقش پا مٹاتے جائیے سرحدیں ہو ختم ساری ختم ہو سب بھید بھاؤ خوں سے میرے ایسا ...
مٹی ہستی ہماری بد گمانی میں مرے تھے پیاس سے دریا کے پانی میں کہانی خود کشی پہ ہو گئی مجبور کوئی کردار تھا ایسا کہانی میں ہے ممکن داد دیتے آپ رو بھی دے فنا شاعر ہوا مطلع کے ثانی میں مرا ارماں جو ٹوٹا تو لگا جیسے کسی کا بیٹا دم توڑے جوانی میں شفقؔ کے شعر پڑھنا جو ملے فرصت ملے گا ...