قومی زبان

دل کے گھاؤ بھی کام آئیں مجھے

دل کے گھاؤ بھی کام آئیں مجھے دیکھ کر لوگ مسکرائیں مجھے وہ ہی دنیا وہی پرانا پن یا خدا کچھ نیا دکھائیں مجھے لوٹ آؤں گا سب بھلا دوں گا سرسری سا اگر بلائیں مجھے با وضو بزم یار میں جاؤں آیت وصل گر سنائیں مجھے بڑی مشکل سے آ کے بیٹھا ہوں درد اٹھتے ہیں مت اٹھائیں مجھے آنکھ رونے کا ...

مزید پڑھیے

تیرے بے ربط بیانات سے خوف آتا ہے

تیرے بے ربط بیانات سے خوف آتا ہے مجھ کو اب شہر کے حالات سے خوف آتا ہے اول اول میں سمجھتا تھا مسیحا تجھ کو منصفا اب تری ہر بات سے خوف آتا ہے ہم جنوں خیز مزاجوں کو نہیں تاب شعور واعظ شہر کے خطبات سے خوف آتا ہے ہاں مجھے گوشہ نشینی سے بہت الفت تھی اب مگر شورش جذبات سے خوف آتا ...

مزید پڑھیے

وقت سے آگے نکلنا چاہیے

وقت سے آگے نکلنا چاہیے ہم کو اب پانی پہ چلنا چاہیے اس سے آگے زندگی آسان ہے گرنے والوں کو سنبھلنا چاہیے آنکھ دشت آرزو ہو جائے تو خواب کو دریا میں پلنا چاہیے عام ہو کچھ تو یہ کرب آگہی زخم سے چشمہ ابلنا چاہیے وہ سنبھل کر دیکھتا ہے آئنہ آئنے کو بھی سنبھلنا چاہیے دھوپ میں ہو برف ...

مزید پڑھیے

رتجگوں کی سلطنت تسخیر کر

رتجگوں کی سلطنت تسخیر کر کچھ دئے کا نام بھی تحریر کر ہے حصار ذات کے باہر شکست تو مرے اندر مجھے تعمیر کر فرقتوں کا زہر مجھ کو پچ گیا گردش دوراں مری توقیر کر یا بدن کی قید سے آزاد کر یا کسی غم سے مجھے زنجیر کر خواب آنکھوں میں اگر رکھے ہیں تو پھر ہتھیلی پر بھی کچھ تحریر کر کچھ ...

مزید پڑھیے

حالات مرے دل کو لگانے نہیں دیتے

حالات مرے دل کو لگانے نہیں دیتے آنکھوں میں ترے خواب سجانے نہیں دیتے ظلمت کے پجاری تو بہت تنگ نظر ہیں جشن شب تاریک منانے نہیں دیتے آنکھوں پہ تو بالکل ہی کوئی بس نہیں چلتا ہم خود کو تری بزم میں جانے نہیں دیتے جنت کی دعائیں مجھے دیتے ہیں سبھی لوگ اس عہد میں جینے کے بہانے نہیں ...

مزید پڑھیے

نہیں کچھ مسئلہ ہم کو گھروں کا

نہیں کچھ مسئلہ ہم کو گھروں کا بہت دشوار ہے بسنا دلوں کا اسے کہنا مجھے ایجاد کر لے مداوا ہوں میں اس کے سب دکھوں کا تمہارے جال لے کر اڑ رہا ہوں کرشمہ ہے مرے ٹوٹے پروں کا تمہارے بعد بھی تنہا نہیں ہوں لگا ہے ایک میلہ رتجگوں کا تمہاری آنکھ کا موتی ہے نادر ہمارا دل بھی تاجر ہے نگوں ...

مزید پڑھیے

خامشی میں ہی لا جواب نہ تھا

خامشی میں ہی لا جواب نہ تھا مسکراہٹ کا بھی حساب نہ تھا میں اسے حرف حرف پڑھتا گیا وہ اگرچہ کھلی کتاب نہ تھا ایک مدت سے سو رہے ہیں لوگ پھر بھی آنکھوں میں کوئی خواب نہ تھا جھیل میں رات بھر تھا کیا رقصاں تیرا پیکر تو زیر آب نہ تھا مرنے والوں کی تھی جزا کی وعید جینے والوں کا احتساب ...

مزید پڑھیے

میزان واقعات میں تولا نہیں گیا

میزان واقعات میں تولا نہیں گیا اتنا وہ نا سپاس تھا لکھا نہیں گیا خوشبو کی آرزو میں سزا قید کی ہوئی صحرا اٹھا کے لائے تو پوچھا نہیں گیا یوں بھی میں اپنے بارے میں کچھ لکھ نہیں سکا لفظوں کا شور ایسا تھا سوچا نہیں گیا دونوں کو فرط شوق نے لب بستہ کر دیا وہ چپ رہا تو ہم سے بھی بولا ...

مزید پڑھیے

ایک عالم پہ بار ہیں ہم لوگ

ایک عالم پہ بار ہیں ہم لوگ عادتاً سوگوار ہیں ہم لوگ گردش پا جنوں بڑھاتی ہے سنگ رہ کی پکار ہیں ہم لوگ پچھلی سب رنجشوں کو بھول بھی جا اب ترے غم گسار ہیں ہم لوگ جانتے ہیں ہنر محبت کا اہل دل میں شمار ہیں ہم لوگ اب ہمیں لوگ ہنس کے ملتے ہیں اب بہت سازگار ہیں ہم لوگ ہم نے مفہوم کو ...

مزید پڑھیے

زرد چہروں پہ شادمانی دے

زرد چہروں پہ شادمانی دے حرف بے نام کو کہانی دے ریزہ ریزہ بکھرتا جاتا ہوں مجھ کو میری کوئی نشانی دے خوف ڈس جائے گا مکینوں کو لفظ تریاک کو معانی دے اے شراب طہور کے مالک پیاسے لوگوں کو سادہ پانی دے ساری بستی کو مت جلا مولا بجلیوں کو مری نشانی دے جن کو ہجرت نے مار ڈالا ہے ان کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5646 سے 6203