جان دیتے ہی بنی عشق کے دیوانے سے
جان دیتے ہی بنی عشق کے دیوانے سے شمع کا حال نہ دیکھا گیا پروانے سے آتش عشق سے جل جل گئے پروانے سے پہلے یہ آگ لگی کعبہ و بت خانے سے ساقیا گریۂ غم سے مجھے مجبور سمجھ خون رستا ہے یہ ٹوٹے ہوئے پیمانے سے رات کی رات چمن میں ہے نمود شبنم صبح ہوتے ہی بکھر جائیں گے سب دانے سے دم آخر تری ...