سمندر کا خیال
اپنی دہلیز پہ کھڑا تنہا اپنا گھر اجنبی سا لگتا تھا اس کی رخصت تھی مانند پرواز ہر طرف ابتری کا منظر تھا ایک لکنت زدہ سی ویرانی در و دیوار پہ تھی حیرانی لرزتے آنسو اور دکھتا ہوا سر روکتے تھے اسے پیمائش ویرانی سے وہ کہ سویا ہے یا کہ جاگا ہے صبح سے کیوں یہ سمندر کا خیال ذہن میں آج ...