قومی زبان

کائنات ذات کا مسافر

آئینہ رقص میں حسرت کی شناسائی کا کتنے چپ چاپ خرابوں میں لیے جاتا ہے ہر طرف نرخ زدہ چہروں کی آوازیں ہیں میری آواز کہاں تھی میری آواز کہاں مدفن وقت سے کب کوئی صدا آئی ہے ایک لمحہ وہی لمحہ مری تنہائی کا زخم پر زخم مرے دل کو دیے جاتا ہے پھول کے ہاتھ میں ہے رات کے ماتم کا چراغ کبھی ...

مزید پڑھیے

میوزیم

جاگتا ہوں تو ستارے مری آنکھوں میں اتر جاتے ہیں نیند آتی ہے تو مہتاب سا چہرہ تیرا آئینہ مجھ کو دکھاتا ہے کئی چہروں کا دیکھتے دیکھتے خوابوں میں کئی خواب بکھر جاتے ہیں وقت کی گلیوں میں آوارہ لیے پھرتا ہے احساس جمال میں سفینے کی طرح دیکھتا رہتا ہوں تجھے چاندنی میرا کفن تیری قبا بنتی ...

مزید پڑھیے

شب نامہ

طشت مہتاب میں ہجر کے خواب میں دل جہاں بھی گیا لمحہ لمحہ جلا وصل کی خواہشیں خاک میں خاک ہوتی رہیں برگ گل نم زدہ غم زدہ غم زدہ کہہ اٹھا میں چلا اوس کے موتیوں کو ہوا کھا گئی زخم آوارگی دامن دل میں چپ چاپ ہنستا رہا سب پرانے نئے کتنے موسم گئے دھند کی اس طرف سارے منظر وہی منتظر صف بہ ...

مزید پڑھیے

بغیر سورج کے دن

بغیر سورج کے دن اداسی کا ترجماں ہے بکھرتے پتوں نے مجھ سے پوچھا ہے تو کہاں ہے درخت ہر سو اداس چہرے چراغ جیسے بجھے ہوئے ہیں نہ عکس پانی میں مہ وشوں کے نہ رقص دل میں بہار جہاں ہے ہوا کے نوحوں میں تیری خوشبو رچی ہوئی ہے ہوا کے نوحوں نے مجھ سے پوچھا ہے تو کہاں ہے بغیر سورج کے دن مری ...

مزید پڑھیے

پاتال زمین آسمان

کہانی کے سارے پرندے بہت دور شاید افق میں کہیں منجمد ہو گئے ہیں شجر زرد پتوں کی تصویر بن کر علامت کی تحریر بن کر بکھرنے لگا ہے کسی جھیل کے آئینے میں وہ مہ وش بدن کے کسی زاویے سے نکلنے کی خواہش میں پلکیں اٹھائے ہوئے دیکھتی رہ گئی ہے پرندوں کی مانند میں بھی یہاں تھا مگر اب نہیں ...

مزید پڑھیے

سرکش

باز کی طرح جھپٹا وہ برہم فرشتہ اس کے بالوں کو مٹھی میں جکڑے ہوئے اس سے بولا میں تمہارا فرشتہ ہوں سن لو اپنے سارے فرائض تم انجام دو گے میری مرضی ہے یہ سیہ کاروں غریبوں احمقوں سے ہمیشہ پیار کرنا تم ہمیشہ پیار کرنا تاکہ جب آئیں انسانیت کے مسیحا فتح کا سرخ قالین ان کے لیے اپنے اخلاق ...

مزید پڑھیے

بیمار گڑیا

کہ شاید خزاں چھو گئی اسے آج خاموش ہے چل کے دیکھیں کہیں آج پھر زیر دل ایک معصوم خواہش کی شدت پھر کسی ادھ جلے خواب کی جستجو تو نہیں تتلیاں سبز و نیلی سر پھرے رقص و بو کے جہاں سے کتنی مانوس و سرشار ہیں اور میں اپنے اچھے خدا سے کتنی بیزار ہوں تھک گئی ہوں چاند تاروں کو چھونے کی ...

مزید پڑھیے

نرگس اور بازگشت

ہزاروں سال سے اس کی بجھی آنکھیں پر نم ہیں اس مرتعش پیکر کے لیے جس کا عکس جھیل کے شیتل جل کی لہروں میں مرتعش ہے چمن میں کوئی دیدہ ور پیدا ہو یا نہ ہو بھلا اس سے اس کا کیا لینا دینا اور فضا میں صرف ڈیڑھ جملے گونج رہے ہیں غبار عشق میں تنہا اٹھا کے لایا ہوں اور بازگشت تنہا اٹھا کے لایا ...

مزید پڑھیے

چپ رہو

بے طلب وہ دے رہا ہے چپ رہو کچھ کہا تو بات خالی جائے گی چپ رہو چپ رہو آنکھ کھولو چپ چاپ رہو اس کی سنو یادوں کا دامن پکڑو گن گن کی آواز سنو دور پپیہا گاتا ہے اس کی سنو چپ چاپ رہو آہستہ آہستہ چلو گول سا ایک پتھر دیکھو لاکھ سال سے چاند ستارے جس کو دیکھ کے چلتے ہیں اس کو دیکھو کچھ نہ ...

مزید پڑھیے

شہر

لوگ کہتے ہیں کہ تجھ سے تھک جانا مر جانے کے برابر ہے اور مجھے بھی کبھی کبھی ایسا ہی لگتا ہے تو سن شہر میں تجھ سے صاف صاف کہہ دوں کہ میں تجھ سے تھک گیا ہوں یا مجھے یوں لگتا ہے کہ میرے سر سے اس باپ کا سایہ اٹھ گیا ہے جو اتنے دنوں میری نگہبانی کر رہا تھا سن شہر اگر مر جاؤں اور لوگ مجھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5498 سے 6203