نہ چھوڑی غم نے مرے اک جگر میں خون کی بوند (ردیف .. ر)
نہ چھوڑی غم نے مرے اک جگر میں خون کی بوند کہاں سے اشک کا ہو کہیے چشم تر میں اثر ہو اس کے ساتھ یہ بے التفاتی گل کیوں جو عندلیب کے ہو نالۂ سحر میں اثر کسی کا قول ہے سچ سنگ کو کرے ہے موم رکھا ہے خاص خدا نے یہ سیم و زر میں اثر جو آہ نے فلک پیر کو ہلا ڈالا تو آپ ہی کہیے کہ ہے گا یہ کس اثر ...