قومی زبان

میں نے تیری یاد بھلا دی شہزادی

میں نے تیری یاد بھلا دی شہزادی تاج محل کو آگ لگا دی شہزادی میل دلوں کا کر کے اپنے مالک نے بیچ میں اک دیوار اٹھا دی شہزادی ہم بھی خوب ہنسے دنیا کی حالت پر دنیا نے بھی خوب سزا دی شہزادی تیرے جوبن نے میری ان آنکھوں کی ساری پونجی خرچ کرا دی شہزادی تجھ کو کھو کر کھانا پینا چھوڑ ...

مزید پڑھیے

میں جو چاہوں بھی تو ایسا نہیں ہونے دے گی

میں جو چاہوں بھی تو ایسا نہیں ہونے دے گی تو مجھے اور کسی کا نہیں ہونے دے گی تری آواز جگائے گی سماعت میں فسوں تیری صورت مجھے اندھا نہیں ہونے دے گی باپ کوئی بھی مصیبت نہیں آنے دے گا ماں مرے دل میں اندھیرا نہیں ہونے دے گی روز آ جاتا ہے مجھ کو کوئی میسج اس کا یعنی وہ غم کا ازالہ نہیں ...

مزید پڑھیے

کم سے کم عارضی نہیں ہوگی

کم سے کم عارضی نہیں ہوگی موت اتنی بری نہیں ہوگی اتنی چھوٹی ہے کائنات مجھے کھل کے آوارگی نہیں ہوگی دین میں جبر کو روا رکھنا مذہبی خود کشی نہیں ہوگی سب پہ تنقیص کر رہا ہے وہ اس سے اب شاعری نہیں ہوگی حفظ کر لوں گا میں بدن اس کا جیب میں ڈایری نہیں ہوگی سب تمنائیں پوری کرنی ہیں تو ...

مزید پڑھیے

بڑھتی جاتی ہے پیاس آنکھوں کی

بڑھتی جاتی ہے پیاس آنکھوں کی بات سمجھو اداس آنکھوں کی اک اشارا ہے مست نظروں کا اک نشانی ہے خاص آنکھوں کی تیرے چھالے مجھے بتاتے ہیں تو نے چکھ لی مٹھاس آنکھوں کی سب کو ہر وقت گھورتی ہیں یہ کوئی تو لے کلاس آنکھوں کی اشک ریزی میں کرتا رہتا ہوں تاکہ نکلے بھڑاس آنکھوں کی تم ذرا اس ...

مزید پڑھیے

دکھ میں لپٹا ہوا ستائے بدن

دکھ میں لپٹا ہوا ستائے بدن میں پکارا چلوں کہ ہائے بدن یہ بدن اپنے ساتھ لے جائے اور اپنا وہ چھوڑ جائے بدن پہلے گوندھا گیا خمیر ان کا پھر خدا نے کہیں بنائے بدن روح پرواز کر گئی میری اور کہتی رہی کہ ہائے بدن اک پرندہ کسی کی ہجرت کا نوچ کر لے گیا قبائے بدن تیری الفت کی داستاں ہم ...

مزید پڑھیے

کسی چراغ کی خواہش نہ جستجو مجھ کو

کسی چراغ کی خواہش نہ جستجو مجھ کو میں خود میں جلتا رہوں یہ ہے آرزو مجھ کو یہ اپنا آپ سمیٹا ہے میں نے مشکل سے بکھر نہ جاؤں کہیں اس طرح نہ چھو مجھ کو کسی کو فکر نہیں تھی میرے سوا تیری وگر نہ بھول نہ جاتی کبھی کی تو مجھ کو صلیب و نوک سناں شوک خود سری ہے مرا ڈرا رہا ہے انہیں سے مرا عدو ...

مزید پڑھیے

جہاں کوئی نہیں ہوتا ہے وہاں چیختا ہے

جہاں کوئی نہیں ہوتا ہے وہاں چیختا ہے یہ مرا دوست مرے ساتھ کہاں چیختا ہے چپ ہی رہنے کی تمنا ترے درویش کو ہے ورنہ جس شخص کو ملتا ہے زیاں چیختا ہے بعض اوقات جو سگریٹ میں کچل دیتا ہوں ادھ جلے سوختہ سگریٹ کا دھواں چیختا ہے جب کبھی شعر میں لانے کی تجھے کوشش ہو لفظ سسکاریاں بھرتے ہیں ...

مزید پڑھیے

کہیں پر ظلم کے شعلے کہیں پر خود پرستی ہے

کہیں پر ظلم کے شعلے کہیں پر خود پرستی ہے چمن کی آبرو خطرے میں ہے یہ بات سچی ہے وہ گھولا زہر نفرت کا سیاست نے فضاؤں میں گلوں کی آنکھ سے شبنم لہو بن کر ٹپکتی ہے بغاوت پر اگر ہم لوگ اتر آئے تو کیا ہوگا ابھی تو ہم نے رسی صبر کی یہ تھام رکھی ہے وہاں انصاف کی امید لے کر جا رہے ہو تم جہاں ...

مزید پڑھیے

ایسا ممکن ہی نہیں درد میں ہر فرد نہ ہو

ایسا ممکن ہی نہیں درد میں ہر فرد نہ ہو کوئی چہرہ تو دکھا خوف سے جو زرد نہ ہو تیرا شفاف بدن خاک نہیں پتھر ہے کیسے ممکن ہے بدن خاک کا ہو گرد نہ ہو ایسا احساس ہے جینے میں نہ مر جانے میں دل میں ٹھنڈک بھی رہے اور بدن سرد نہ ہو کوئی تعویذ بتا جس کے اثر سے مرشد زخم پر زخم تو آ جائے مگر ...

مزید پڑھیے

میں تجھ پہ کر نہیں سکتا نثار اور چراغ

میں تجھ پہ کر نہیں سکتا نثار اور چراغ ہوائے لمس کے جھونکے نہ مار اور چراغ اٹھا کے طاق سے اک روز پھینک دے گا کوئی مرا وجود ترا انتظار اور چراغ سفر کو یاد رہے گا ہمارا رخت سفر یہ سرخ آبلے گرد و غبار اور چراغ تو جان لینا کہ پھر امتحان دوستی ہے اگر بجھایا گیا ایک بار اور چراغ تری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5311 سے 6203