قومی زبان

فکر غربت ہے نہ اندیشۂ تنہائی ہے

فکر غربت ہے نہ اندیشۂ تنہائی ہے زندگی کتنے حوادث سے گزر آئی ہے لوگ جس حال میں مرنے کی دعا کرتے ہیں میں نے اس حال میں جینے کی قسم کھائی ہے ہم نہ سقراط نہ منصور نہ عیسیٰ لیکن جو بھی قاتل ہے ہمارا ہی تمنائی ہے زندگی اور ہیں کتنے ترے چہرے یہ بتا تجھ سے اک عمر کی حالانکہ شناسائی ...

مزید پڑھیے

غیروں سے بھی دھوکے کھائے ہیں اپنوں سے بھی دھوکے کھائے ہیں

غیروں سے بھی دھوکے کھائے ہیں اپنوں سے بھی دھوکے کھائے ہیں تب جا کے کہیں اس دنیا کے انداز سمجھ میں آئے ہیں وہ اپنی جفائے پیہم پر دم بھر بھی اگر شرمائے ہیں احساس وفاداری کو مرے پہروں پچھتاوے آئے ہیں ہم میں نہ محبت کی گرمی ہم میں نہ شرافت کی نرمی انسان کہیں کیوں سب ہم کو ہم چلتے ...

مزید پڑھیے

سنیں بہار کی رنگیں بیانیاں کیا کیا

سنیں بہار کی رنگیں بیانیاں کیا کیا کہیں تبسم گل نے کہانیاں کیا کیا دیا جواب نہ کچھ مسکرا کے رہ گئے پھول زبان خار نے کیں بد زبانیاں کیا کیا بڑھا نہ ناقۂ لیلیٰ بغیر نالۂ قیس ہنر دکھاتی رہیں ساربانیاں کیا کیا مزاج سنگ نہ پگھلا کہ تھا نہ سوز کلیم عصا پٹکتی رہیں قہرمانیاں کیا ...

مزید پڑھیے

ہزار شیوۂ رنگیں ہے اک جفا کے لیے

ہزار شیوۂ رنگیں ہے اک جفا کے لیے نگاہ چاہئے نیرنگیٔ ادا کے لیے سواد فکر سے ابھری تری حسین نگاہ میں شمع ڈھونڈھ رہا تھا رہ وفا کے لیے وہ رنج راہ ہو یا خوف گمرہی اے دوست جو راہرو کے لیے ہے وہ رہنما کے لیے یہ بندگی یہ ریاضت یہ زہد یہ تقویٰ یہ سب خودی کے لیے ہے کہ ہے خدا کے لیے یہ ...

مزید پڑھیے

اگرچہ شعلہ عیاں نہیں ہے اگرچہ لب پر دھواں نہیں ہے

اگرچہ شعلہ عیاں نہیں ہے اگرچہ لب پر دھواں نہیں ہے نہاں جسے ہم سمجھ رہے ہیں وہ آگ دل کی نہاں نہیں ہے یہ راہ وہ ہے کہ ہر مسافر کے تجربے جس میں مختلف ہیں وہ کون انساں ہے زندگی جس کی اک نئی داستاں نہیں ہے کدھر کو جائیں کسے پکاریں مڑیں کہ آگے ہی بڑھتے جائیں غبار کا بھی ترے سہارا ہمیں ...

مزید پڑھیے

اسی معمورے میں کچھ ایسے ہیں سودائی بھی

اسی معمورے میں کچھ ایسے ہیں سودائی بھی جن کے کام آ نہ سکی تیری مسیحائی بھی شکر ہے آپ کو میرے لیے زحمت نہ ہوئی لیجئے کٹ گئی میری شب تنہائی بھی بڑھ سکی جس سے نہ انگشت بہ لب نادانی اسی منزل میں نظر آتی ہے دانائی بھی اللہ اللہ رے گراں جانئ بیمار وفا ناتوانی بھی ہے حیران توانائی ...

مزید پڑھیے

سوز دل شمع تپاں ہو جیسے

سوز دل شمع تپاں ہو جیسے آگ چولھے میں نہاں ہو جیسے کیسی افسردہ بہار آئی ہے اب بھی گلشن میں خزاں ہو جیسے مجھ پہ محفل میں تبسم کی نظر بہ طفیل دگراں ہو جیسے آپ کی چشم عنایت کا یقیں دل فریب ایک گماں ہو جیسے یوں وہ سنتے ہیں کہانی میری اک حدیث دگراں ہو جیسے چونک اٹھے ہم تو قیامت ...

مزید پڑھیے

مرے سجدہ ہائے نیاز کو ترے آستاں کی تلاش ہے

مرے سجدہ ہائے نیاز کو ترے آستاں کی تلاش ہے کسی فرد کی یہ طلب نہیں یہ تو اک جہاں کی تلاش ہے نئی سرزمیں کی ہے جستجو نئے آسماں کی تلاش ہے جو مکاں بھی ٹھیک نہ رکھ سکے انہیں لا مکاں کی تلاش ہے مرے پائے شوق سفر میں ہیں ابھی راہ و رسم کی بندشیں مجھے نقش پا کی ہے جستجو مجھے کارواں کی تلاش ...

مزید پڑھیے

رہ گزر باشوں کو سائے کی بھی کیا حاجت نہیں (ردیف .. م)

رہ گزر باشوں کو سائے کی بھی کیا حاجت نہیں پوچھتے ہیں عالم نو تیرے معماروں سے ہم کیا خبر تھی آ کے منزل پر وہ ہوگا چاک چاک جو بچا لائے تھے دامن راہ کے خاروں سے ہم جیسے سایہ بھی گناہوں کا نہیں ہم پر پڑا کس قدر دامن کشیدہ ہیں گنہ گاروں سے ہم دم نہ لیں گے جب تلک یہ سامنے سے ہٹ نہ ...

مزید پڑھیے

یوں وفا آزمائی جاتی ہے

یوں وفا آزمائی جاتی ہے دل کی رگ رگ دکھائی جاتی ہے اپنی صورت کے آئنے میں مجھے میری صورت دکھائی جاتی ہے ایک ہلکی سی مسکراہٹ سے نئی دنیا بنائی جاتی ہے نہ بنے بات کچھ تو ہنس دینا بات یوں بھی بنائی جاتی ہے جلنے والا جلے دھواں بھی نہ ہو آگ یوں بھی لگائی جاتی ہے جانے والے تجھے خبر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5219 سے 6203