اپنی خطا کہ رکھ کے دل ذوق خلش نہ پا سکے
اپنی خطا کہ رکھ کے دل ذوق خلش نہ پا سکے عقل کی جھڑکیاں سہیں پر نہ فریب کھا سکے ہجر بھی ایک وہم ہے وصل بھی اک فریب تھا کھو کے نہ تم کو کھو سکے پا کے نہ تم کو پا سکے تیری نظر نے بزم میں اٹھ کے ہمیں بٹھا دیا اٹھے تو بار بار ہم اٹھ کے مگر نہ جا سکے جرأت ترک عاشقی مجھ سے نہ ہو سکی ...