قومی زبان

روز جو مرتا ہے اس کو آدمی لکھو کبھی

روز جو مرتا ہے اس کو آدمی لکھو کبھی تیرگی کے باب میں بھی روشنی لکھو کبھی سانس لینا بھی مقدر میں نہیں جس عہد میں بیٹھ کر اس عہد کی بھی ان کہی لکھو کبھی درد دل درد جگر کی داستاں لکھی بہت نان خشک و آب کم کو زندگی لکھو کبھی مصلحت پر بھی کبھی ہوتے رہے قرباں اصول ان اصولوں کو بھی ان کی ...

مزید پڑھیے

زندگی ایک سزا ہو جیسے

زندگی ایک سزا ہو جیسے کسی گنبد کی صدا ہو جیسے رات کے پچھلے پہر دھیان ترا کوئی سائے میں کھڑا ہو جیسے آم کے پیڑ پہ کوئل کی صدا تیرا اسلوب وفا ہو جیسے یوں بھڑک اٹھے ہیں شعلے دل کے اپنے دامن کی ہوا ہو جیسے رہ گئے ہونٹ لرز کر اپنے تیری ہر بات بجا ہو جیسے دور تکتا رہا منزل کی ...

مزید پڑھیے

دیکھ کوہ نارسا بن کر بھرم رکھا ترا

دیکھ کوہ نارسا بن کر بھرم رکھا ترا میں کہ تھا اک ذرۂ بیتاب اے صحرا ترا کون ساقی کیسا پیمانہ کہاں صہبائے تیز آبرو یوں رہ گئی ہے سر میں تھا سودا ترا سب گریباں سی رہے ہیں صحن گل میں بیٹھ کر کون اب صحرا کو جائے، ہے کہاں چرچا ترا اب عناصر میں توازن ڈھونڈنے جائیں کہاں ہم جسے ہم راز ...

مزید پڑھیے

کیا بتائیں کہاں کہاں تھے پھول

کیا بتائیں کہاں کہاں تھے پھول خاک اڑتی ہے اب جہاں تھے پھول بھیگی بھیگی سی دیکھ کر کلیاں مسکرائے جہاں جہاں تھے پھول دل میں گلشن کھلا گئے کیا کیا یوں تو دو دن کے میہماں تھے پھول جب خزاں آئی جاں پہ کھیل گئے محرم جہد بے کراں تھے پھول جس نے توڑا اسی کو رنج ہوا مثل پیمانۂ مغاں تھے ...

مزید پڑھیے

آتش دان

کتنی یادیں جلا چکا ہوں میں کتنے ارماں بجھا چکا ہوں میں کرسیاں کھینچ کر مرے نزدیک اپنے ماضی پہ سوچنے والے داستاں بن رہے ہیں ماضی کی کٹکٹاتے ہوئے وہ چلغوزے چھیل کر منہ میں ڈالتے جائیں اور شعلوں سے کھیلتے جائیں یاد آئیں جو شعلہ رو لمحے جھریوں سے اٹے ہوئے چہرے ایک پل کے لیے دمک ...

مزید پڑھیے

گلیڈیولا

مری کی الھڑ پہاڑیوں کے چبوتروں پر ہری ہری نرم لابنی لابنی گھاس سے سر کشیدہ شاخیں ہتھیلیوں پر سجائے سیندھوری گل ادا سے فضائے خوش رنگ میں لہک کر ہر ایک رہرو کے دامن دل کو کھینچتی ہیں صبا کی سرگوشیاں مسلم یہ کیسے گل ہیں کہ ان کی خوشبو سے چونکتا بھی نہیں ہے کوئی مگر انہیں دیکھ کر ...

مزید پڑھیے

کہیں صلیب کہیں کربلا نظر آئے

کہیں صلیب کہیں کربلا نظر آئے جدھر نگاہ اٹھے زخم سا نظر آئے بجھی ہے پیاس زمیں کی تو یہ تپش کیوں ہے وہ ابر ہے تو برستا ہوا نظر آئے بجا ہے اپنی عقیدت مگر سوال یہ ہے وہ آدمی ہو تو کیونکر خدا نظر آئے چلو کہ گھیر لیں اس کو لہو لہو چہرے ہر ایک سمت اسے آئنہ نظر آئے ہمیں نے تن سے جدا کر ...

مزید پڑھیے

نقش پانی پہ بنا ہو جیسے

نقش پانی پہ بنا ہو جیسے زندگی موج بلا ہو جیسے مجھ سے بچ بچ کے چلی ہے دنیا میرے نزدیک خدا ہو جیسے کوئی تحریر مکمل نہ ہوئی مجھ سے ہر لفظ خفا ہو جیسے کس قدر شہر میں سناٹا ہے اب کے کوئی نہ بچا ہو جیسے اس طرح پوج رہی ہے دنیا کوئی مجھ سے بھی بڑا ہو جیسے راہ ملتی ہے اندھیروں میں ...

مزید پڑھیے

خود اپنے ساتھ سفر میں رہے تو اچھا ہے

خود اپنے ساتھ سفر میں رہے تو اچھا ہے وہ بے خبر ہے خبر میں رہے تو اچھا ہے قدم قدم یونہی رکھنا دلوں میں اندیشہ چراغ راہ گزر میں رہے تو اچھا ہے کبھی کبھی مرے دامن کے کام آئے گی یہ دھوپ دیدۂ تر میں رہے تو اچھا ہے میں دل کا حال نہ آنے دوں اپنی پلکوں تک یہ گھر کی بات ہے گھر میں رہے تو ...

مزید پڑھیے

درد کا شہر کہیں کرب کا صحرا ہوگا

درد کا شہر کہیں کرب کا صحرا ہوگا لوگ واقف تھے کوئی گھر سے نہ نکلا ہوگا وہ جو اک شخص بضد ہے کہ بھلا دو مجھ کو بھول جاؤں تو اسی شخص کو صدمہ ہوگا آنکھ کھلتے ہی بچھڑ جائے گا ہر منظر شب چاند پھر صبح کے مقتل میں اکیلا ہوگا جن اجالوں کی طرف دوڑ رہی ہے دنیا ان اجالوں میں قیامت کا اندھیرا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5218 سے 6203