تخلیق عورت
ذروں میں جنبش تھی کوئی چھائی تھی فضا پر مدہوشی اک نیند تھی ہر شے پر طاری قدرت بھی تھی محو خاموشی روشن نہ ستارے تھے اوپر ویران فلک کی بستی تھی لالہ نہ زمیں پر کھلتا تھا بے رنگ نگار ہستی تھی آہیں نہ لبوں پر آتی تھیں مضطر نہ تنوں میں جانیں تھیں دل میں نہ امنگیں اٹھتی تھیں جذبات کی ...