قومی زبان

تخلیق عورت

ذروں میں جنبش تھی کوئی چھائی تھی فضا پر مدہوشی اک نیند تھی ہر شے پر طاری قدرت بھی تھی محو خاموشی روشن نہ ستارے تھے اوپر ویران فلک کی بستی تھی لالہ نہ زمیں پر کھلتا تھا بے رنگ نگار ہستی تھی آہیں نہ لبوں پر آتی تھیں مضطر نہ تنوں میں جانیں تھیں دل میں نہ امنگیں اٹھتی تھیں جذبات کی ...

مزید پڑھیے

مطربہ

شب کی خموشیوں میں سوئی ہوئی ہے دنیا چپ چاپ ہیں ستارے خاموش آسماں ہے لیکن اے مطربہ تو بیدار ہے ابھی تک اک اضطراب دریا دل میں ترے نہاں ہے بستی سے دور آ کر بیٹھی ہے کیوں لب جو بربط لیے بغل میں کچھ گنگنا رہی تھی نغمہ سرائیوں پہ آمادہ تھی طبیعت آہٹ کو میری پا کر خاموش ہو گئی ہے آنے سے ...

مزید پڑھیے

نظر بھر کے یوں جو مجھے دیکھتا ہے

نظر بھر کے یوں جو مجھے دیکھتا ہے بتا بھی دے مجھ کو کہ کیا سوچتا ہے محبت نہیں جیسے کیا کر لیا ہو زمانہ مجھے اس قدر ٹوکتا ہے دسمبر کی سردی ہے اس کے ہی جیسی ذرا سا جو چھو لے بدن کانپتا ہے لگایا ہے دل بھی تو پتھر سے میں نے مری زندگی کی یہی اک خطا ہے جسے دیکھ کے غم بھی رستہ بدل دے وہ ...

مزید پڑھیے

یہ لگتا ہے اب بھی کہیں کچھ بچا ہے

یہ لگتا ہے اب بھی کہیں کچھ بچا ہے تمہارا دیا زخم اب تک ہرا ہے کہو کون سی شکل دیکھو گے اب تم یہ چہرہ تو اک آورن سے ڈھکا ہے لگا ہے زمانہ عبادت میں جس کی وہ رہتا کہاں ہے تمہیں کچھ پتا ہے گناہوں سے توبہ کرو وقت رہتے وگرنہ تو دوزخ کا رستہ کھلا ہے محبت محبت محبت محبت اماں یار چھوڑو یہ ...

مزید پڑھیے

کوزہ گر کے گھر امیدیں آئی ہیں

کوزہ گر کے گھر امیدیں آئی ہیں مٹی کے پتلے میں سانسیں آئی ہیں گھبرا کر بستر سے اٹھ بیٹھا ہوں میں نیند میں پھر خوابوں کی لاشیں آئی ہیں کس نے دستک دی ہے میری پلکوں پر آنکھوں کی دہلیز پہ یادیں آئی ہیں خواب میں اس کو روتے دیکھ لیا تھا بس من میں جانے کیا کیا باتیں آئی ہیں آنکھیں سرخ ...

مزید پڑھیے

یہ غم پھر سے ابھرتا جا رہا ہے

یہ غم پھر سے ابھرتا جا رہا ہے مجھے حیران کرتا جا رہا ہے سنا معیار گرتا جا رہا ہے مگر بندہ نکھرتا جا رہا ہے مجھے یہ کیا ہوا ہے کچھ دنوں سے ترا احساس مرتا جا رہا ہے اماں اس خواب کو بھی کیا کہیں اب بکھرنا تھا بکھرتا جا رہا ہے ترا خاموشیوں کو وقت دینا صداؤں کو اکھرتا جا رہا ...

مزید پڑھیے

دنیا کو جب نزدیکی سے دیکھا ہے

دنیا کو جب نزدیکی سے دیکھا ہے تب سمجھا یہ سب کچھ کھیل تماشہ ہے ہاتھوں کی دو چار لکیریں پڑھ کر وہ مجھ سے بولا آگے سب کچھ اچھا ہے اس سے بس اک بار ملا پر حیراں ہوں دل میں تب سے گھر کر کے وہ بیٹھا ہے کاغذ پر دل کی تصویر بنائی جب اس نے پوچھا یہ کس شے کا نقشہ ہے سوچ رہا ہوں میں اس کا ...

مزید پڑھیے

قسمت اپنی ایسی کچی نکلی ہے

قسمت اپنی ایسی کچی نکلی ہے ہر محفل سے بس تنہائی نکلی ہے خط اوس کے جب آج جلانے بیٹھا تو ماچس کی تیلی بھی سیلی نکلی ہے شور شرابہ رہتا تھا جس آنگن میں آج وہاں سے بس خاموشی نکلی ہے بھوکا بچہ دیکھا تو ان آنکھوں سے آنسو کی پھر ایک ندی سی نکلی ہے اپنی صورت کی پرتیں جب کھولیں تو اپنی ...

مزید پڑھیے

رات بھر خواب میں جلنا بھی اک بیماری ہے

رات بھر خواب میں جلنا بھی اک بیماری ہے عشق کی آگ سے بچنے میں سمجھ داری ہے وقت ملتا ہی نہیں ہے مجھے تنہائی سے جنگ خود سے ہی مری آج تلک جاری ہے آئنے گھر کے سبھی ٹوٹ چکے ہیں کب کے روبرو خود سے ہی ہونا بھی مجھے بھاری ہے میری یہ بات تو مانے یا نہ مانے لیکن بن ترے دنیا میں جینا بھی ...

مزید پڑھیے

غرض پڑنے پہ اس سے مانگتا ہے

غرض پڑنے پہ اس سے مانگتا ہے خدا ہوتا ہے یعنی مانتا ہے کئی دن سے شرارت ہی نہیں کی مرے اندر کا بچہ لاپتہ ہے برے ماحول سے گزرا ہے یہ دل محبت لفظ سے ہی کانپتا ہے یہ کچی عمر کے عاشق کو دیکھو ذرا روٹھے کلائی کاٹتا ہے ابھی منزل دکھائی بھی نہیں دی ابھی سے ہی تو اتنا ہانپتا ہے گناہوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5212 سے 6203