قومی زبان

قدم قدم پہ ہمیں رنگ و بو کا دھوکا ہے

قدم قدم پہ ہمیں رنگ و بو کا دھوکا ہے خزاں نصیب رفیقو یہ دور کیسا ہے جو تو کہے اسے چھو کر ذرا یقیں کر لوں تری جبیں پہ مجھے چاندنی کا دھوکا ہے مری نگاہ نے بخشی ہے حسن کو رونق نسیم صبح سے پھولوں کا رنگ بکھرا ہے بنائے شعر ہے میرا مشاہدہ عشرتؔ مرے کلام میں ہر دل کا درد ہوتا ہے

مزید پڑھیے

اداس دل ہے کہ ان کی نظر نہیں ہوتی

اداس دل ہے کہ ان کی نظر نہیں ہوتی بغیر شمس کے تاب قمر نہیں ہوتی کچھ ایسے لوگ بھی دنیا میں ہم نے دیکھے ہیں سما بھی جاتے ہیں دل میں خبر نہیں ہوتی اٹھو تو دست‌ بہ ساغر چلو تو شیشہ بہ دوش یہ مے کدہ ہے یہاں یوں گزر نہیں ہوتی کبھی کبھی مجھے ان کا خیال آتا ہے کبھی کبھی مجھے اپنی خبر ...

مزید پڑھیے

مرد ہوں ایسے ستم گر نہیں اچھے لگتے

مرد ہوں ایسے ستم گر نہیں اچھے لگتے آئینے توڑتے پتھر نہیں اچھے لگتے چاہنے والے بچھڑ جائیں تو دکھ ہوتا ہے بے وفائی کے بھی منظر نہیں اچھے لگتے چاند تارو کرو تاریک شبوں کو روشن مجھ کو تاریک سے منظر نہیں اچھے لگتے مجھ کو ان کھوکھلے دعووں سے بھی گھن آتی ہے پھول کے بھیس میں پتھر نہیں ...

مزید پڑھیے

میری نظروں سے بھی تو دور کہاں ہوتا ہے

میری نظروں سے بھی تو دور کہاں ہوتا ہے اپنے سائے پہ بھی اب تیرا گماں ہوتا ہے تیرے جذبات کے بہتے ہوئے دریا کی قسم لمحہ لمحہ تری چاہت سے جواں ہوتا ہے نیند آنکھوں سے بہت دور چلی جاتی ہے جب تصور میں ترا ذکر بیاں ہوتا ہے

مزید پڑھیے

گھر بار کا میں بوجھ اٹھاتے ہوئے چلی

گھر بار کا میں بوجھ اٹھاتے ہوئے چلی کاندھے سے کاندھا سب کے ملاتے ہوئے چلی ماں ہوں بہن ہوں بیٹی شریک حیات ہوں رشتوں کے سب تقاضے نبھاتے ہوئی چلی ہر شخص کی نگاہ کا تھا زاویہ جدا آنکھوں سے سب کی آنکھ ملاتے ہوئے چلی چلنا مرا مزاج ہے رکنا نہیں پسند اپنے لئے میں راہ بناتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

یوں تو کیا کیا نظر نہیں آتا

یوں تو کیا کیا نظر نہیں آتا کوئی تم سا نظر نہیں آتا ڈھونڈتی ہیں جسے مری آنکھیں وہ تماشا نظر نہیں آتا ہو چلی ختم انتظار میں عمر کوئی آتا نظر نہیں آتا جھولیاں سب کی بھرتی جاتی ہیں دینے والا نظر نہیں آتا زیر سایہ ہوں اس کے اے امجدؔ جس کا سایہ نظر نہیں آتا

مزید پڑھیے
صفحہ 5191 سے 6203