ہر قطرے میں بحر معرفت مضمر ہے
ہر قطرے میں بحر معرفت مضمر ہے ہر اک ذرے میں کچھ نہ کچھ جوہر ہے ہو چشم بصیرت تو ہر چیز اچھی گر آنکھ نہ ہو تو لعل بھی پتھر ہے
ہر قطرے میں بحر معرفت مضمر ہے ہر اک ذرے میں کچھ نہ کچھ جوہر ہے ہو چشم بصیرت تو ہر چیز اچھی گر آنکھ نہ ہو تو لعل بھی پتھر ہے
مر مر کے لحد میں میں نے جا پائی ہے یاں تک مجھے تیری ہی کشش لائی ہے آ اے مرے منہ چھپانے والے آ جا خلوت ہے شب تار ہے تنہائی ہے
گرمی میں غم لبادہ نازیبا ہے مستی میں خیال بادہ نازیبا ہے کافی ہے ضرورت کے مطابق دنیا دنیا حد سے زیادہ نازیبا ہے
دنیا کے ہر ایک ذرے سے گھبراتا ہوں غم سامنے آتا ہے جدھر جاتا ہوں رہتے ہوئے اس جہاں میں مدت گزری پھر بھی اپنے کو اجنبی پاتا ہوں
ہر محفل سے بہ حال خستہ نکلا ہر بزم طرب سے دل شکستہ نکلا منزل ہی نہیں یہاں مسافر کے لیے سمجھا تھا جسے مقام رستہ نکلا
سرمایۂ علم و فضل کھویا میں نے سب دفتر پارینہ ڈبویا میں نے بس ہے تری خاک پا تیمم کے لیے اے دوست وضو سے ہاتھ دھویا میں نے
اس جسم کی کیچلی میں اک ناگ بھی ہے آواز شکست دل میں اک راگ بھی ہے بے کار نہیں بنا ہے اک تنکا بھی خاموش دیا سلائی میں آگ بھی ہے
جو کچھ مصیبتیں ہیں تجھ پر کم ہیں خوشیاں دنیا کی تیرے حق میں سم ہیں غم سے کیوں دور بھاگتا ہے امجد معلوم نہیں تجھے کہ غم میں ہم ہیں
کاندھوں سے زندگی کو اترنے نہیں دیا اس موت نے کبھی مجھے مرنے نہیں دیا پوچھا تھا آج میرے تبسم نے اک سوال کوئی جواب دیدۂ تر نے نہیں دیا تجھ تک میں اپنے آپ سے ہو کر گزر گیا رستہ جو تیری راہ گزرنے نہیں دیا کتنا عجیب میرا بکھرنا ہے دوستو میں نے کبھی جو خود کو بکھرنے نہیں دیا ہے ...
وہ اپنے بند قبا کھولتی تو کیا لگتی خدا کے واسطے کوئی کہے خدا لگتی یقین تھی تو یقیں میں سما گئی کیسے گمان تھی تو گماں سے بھی ماورا لگتی اگر بکھرتی تو سورج کبھی نہیں اگتا ترا خیال کہ وہ زلف بس گھٹا لگتی ترے مریض کو دنیا میں کچھ نہیں لگتا دوا لگے نہ رقیبوں کی بد دعا لگتی ہوئی ہے ...