قومی زبان

کاندھوں سے زندگی کو اترنے نہیں دیا

کاندھوں سے زندگی کو اترنے نہیں دیا اس موت نے کبھی مجھے مرنے نہیں دیا پوچھا تھا آج میرے تبسم نے اک سوال کوئی جواب دیدۂ تر نے نہیں دیا تجھ تک میں اپنے آپ سے ہو کر گزر گیا رستہ جو تیری راہ گزرنے نہیں دیا کتنا عجیب میرا بکھرنا ہے دوستو میں نے کبھی جو خود کو بکھرنے نہیں دیا ہے ...

مزید پڑھیے

وہ اپنے بند قبا کھولتی تو کیا لگتی

وہ اپنے بند قبا کھولتی تو کیا لگتی خدا کے واسطے کوئی کہے خدا لگتی یقین تھی تو یقیں میں سما گئی کیسے گمان تھی تو گماں سے بھی ماورا لگتی اگر بکھرتی تو سورج کبھی نہیں اگتا ترا خیال کہ وہ زلف بس گھٹا لگتی ترے مریض کو دنیا میں کچھ نہیں لگتا دوا لگے نہ رقیبوں کی بد دعا لگتی ہوئی ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5192 سے 6203