یوں ہی کب تک مری تقدیر میں بل آئیں گے
یوں ہی کب تک مری تقدیر میں بل آئیں گے آج کی بات پہ کہتے ہو کہ کل آئیں گے پاؤں جب جذب محبت کے نکل آئیں گے وادیٔ حسن و جوانی میں خلل آئیں گے چل تو لے کر ہمیں اے مستیٔ ذوق سجدہ منہ پہ خاک در محبوب ہی مل آئیں گے حوصلہ شرط ہے حالات سے مایوس نہ ہو راستے خود ہی چٹانوں سے نکل آئیں ...