کوئی خوش ہے کوئی ناکام ہے ایسا کیوں ہے
کوئی خوش ہے کوئی ناکام ہے ایسا کیوں ہے ہے کہیں صبح کہیں شام ہے ایسا کیوں ہے جن کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا میں کانٹے کی طرح ان کے ہونٹوں پہ مرا نام ہے ایسا کیوں ہے چاہے جس کی ہو خطا کوئی بھی مجرم ہو مگر ترے دیوانوں پہ الزام ہے ایسا کیوں ہے حسن کی انجمن آرائیاں تسلیم مگر عشق آوارہ و ...