کچھ ایسے زخم زمانہ کا اندمال کیا
کچھ ایسے زخم زمانہ کا اندمال کیا کبھی نماز پڑھی اور کبھی دھمال کیا لگائی ضرب شدید اپنے دل پہ مستی میں خدا سے ٹوٹا ہوا رابطہ بحال کیا اسی کی بات لکھی چاہے کم لکھی ہم نے اسی کا ذکر کیا چاہے خال خال کیا لو ہم نے ڈھال لیا خود کو اس کے پیکر میں لو ہم نے ہجر کے عرصے کو بھی وصال ...