قومی زبان

اکتارے والا بنجارا

رخصت اے ہواۓ یخ بستہ پھاگن کی ہوا گاتی آئی پر کھول کے جاگی انگڑائی باغوں میں آم کی شاخوں پر پھر من للچاتے بور لگے بچپن کو شرارت پھر سوجھی سردی سے ٹھٹھری گٹھڑی سی کمبخت خطائیں پھر سنکیں کوئل منقار میں کوک لیے خوشبو کی جسامت ڈھونڈ رہی پاگل پن کی تصویر ہوئی پھر من جنگل میں مور نے ...

مزید پڑھیے

اور دو آنکھیں

ندی رواں ہے اوپر پل سے ریل گزرتی ہے پل سے نیچے صبح کا سورج جل دھارے پر جھلمل دھوپ سے سات سروں میں نظمیں لکھتا ہے چاندی چاندی ریتیلے ساحل پر تم قدموں سے پھول کھلاتی ہو اور دو آنکھیں اس بحرانی اندھے بہرے گونگے یگ میں سرخ زمیں کی نم مٹی سے دشت کی کھوئی خوشبو چنتی ہیں

مزید پڑھیے

ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

اٹھو سیلے کمرے سے باہر کو نکلو وہاں ہے زمانہ تغیر پذیر کہ ہم چاہ تاریک میں اپنی آنکھیں نہ کھو دیں اٹھیں جب تو سب چیزیں بدلی ملیں اور سارے تماشے ہمیں اجنبی آنکھ سے گھورتے ہم سے پوچھیں کہ تم کون ہو کس عجائب کدے سے نکل آئے ہو اور جب اپنی جیبیں ٹٹولیں تو سکے ہمارے زر و سیم کے قیمتیں ...

مزید پڑھیے

میں نے اک چیز بچا رکھی ہے

یہ خرابہ کہ کوئی گنبد تاریک ہے یہ کوئی سوراخ نہیں کوہ سیہ کے اس پار آنکھ دیکھے کوئی تارا جگنو اس خرابے کی سحر بھی کیا ہے بیوگی صبح کی چوکھٹ تھامے اپنی پیشانی کی کھوئی ہوئی بندی میں گم سرخ اگتے ہوئے سورج کو کھڑی گھورتی ہے دن کا یہ حال کہ بس دھول اڑتی ہے بدن میں دن بھر جیٹھ دوپہر کی ...

مزید پڑھیے

اسی ہوائے بہار میں تم سے پھر ملوں گا

یہ وہم ہے تو برا نہیں ہے جو خواب سمجھو تو خواب سمجھو مگر ملوں گا یقیں کے سورج کی راس تھامے گھڑی کی سوئی گھما سکو تو صدی کی فصل بہار موسم کے در پہ روکو جہاں ہوا نے بدن چھوا تھا تو دست جاناں کی گوندھی مٹی مہک اٹھی تھی جہاں لبوں نے دعا پڑھی تو زمیں کے سینے پہ پھول مہکے پرند چہکے کئی ...

مزید پڑھیے

سکوت گلنار ہو رہی ہے

افق کی سیڑھی اتر کے سورج سکوت دریا کو چومتا ہے سکوت گلنار ہو رہی ہے کنار دریا کھڑے ہوئے سب درخت حیرت سے دیکھتے ہیں سکوت میں رنگ رنگ میں چھب وہیں پہ کوئی کنار دریا بچھی ہوئی ریت کی دری کو الٹ کے جاناں کسی تقدس مآب ساعت لکھی ہوئی اک حسین سی نظم ڈھونڈھتا ہے

مزید پڑھیے

کہ اب جو مرحلہ ہوگا

یہی لگتا ہے غیر اعلانیہ کچھ ناروا اعلان شاید ہو چکا ہے یہ اک لمحہ بہت سنجیدگی سے سوچنے کا ہے کہ اس کے بعد اب جو مرحلہ ہوگا کسی سم سم کے کھلنے کا نہ شاہوں کے دفینے ہاتھ آنے کا نہ جشن و رقص کا ہوگا بھیانک روح فرسا مرحلہ وہ یقیناً اشک و خاک و خوں نہائے شہر سے ملبہ ہٹانے اور تعفن سے ...

مزید پڑھیے

تیری خاطر اے دل بیتاب ہیں برباد ہم

تیری خاطر اے دل بیتاب ہیں برباد ہم پھر رہے ہیں مارے مارے چار سو ناشاد ہم جا کے بزم یار میں خود ہی ہوئے ہیں جب اسیر کس طرح لائیں زباں پر شکوۂ بیداد ہم جس کی خاطر اہل دنیا کی نگاہوں سے گرے خون دل سے لکھ رہے ہیں آج وہ روداد ہم آج تک جس نے کسی پر رحم کھایا ہی نہیں اس پہ ہوتا کیا اثر ...

مزید پڑھیے

شعلہ مری آنکھوں سے عیاں کیوں نہیں ہوتا

شعلہ مری آنکھوں سے عیاں کیوں نہیں ہوتا ایسا ابھی اے سوز نہاں کیوں نہیں ہوتا آیا ہوں صنم خانے میں کعبہ سے نکل کر حاصل مجھے دیدار بتاں کیوں نہیں ہوتا جب پرسش احوال پہ مائل ہیں وہ خود ہی حال دل بیتاب بیاں کیوں نہیں ہوتا ہر وقت تصور میں رہا کرتا ہوں پھر بھی آباد مرے دل کا جہاں کیوں ...

مزید پڑھیے

کیا کہوں کس سے کہوں کہنے کا کچھ حاصل نہیں

کیا کہوں کس سے کہوں کہنے کا کچھ حاصل نہیں جب سے دیکھا ہے انہیں قابو میں میرا دل نہیں لطف کیا پینے کا آئے گا بھلا اے مے کشو مے تو ہے موجود لیکن ساقئ محفل نہیں تیرے آنے سے وہ کیا محفوظ ہو اے فصل گل جس کو دنیا میں میسر ہی سکون دل نہیں میری گردن پر چھری یہ کہہ کر اس نے پھیر دی مجرم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5078 سے 6203