اکتارے والا بنجارا
رخصت اے ہواۓ یخ بستہ پھاگن کی ہوا گاتی آئی پر کھول کے جاگی انگڑائی باغوں میں آم کی شاخوں پر پھر من للچاتے بور لگے بچپن کو شرارت پھر سوجھی سردی سے ٹھٹھری گٹھڑی سی کمبخت خطائیں پھر سنکیں کوئل منقار میں کوک لیے خوشبو کی جسامت ڈھونڈ رہی پاگل پن کی تصویر ہوئی پھر من جنگل میں مور نے ...