سنگ در اس کا ہر اک در پہ لگا ملتا ہے
سنگ در اس کا ہر اک در پہ لگا ملتا ہے دل کو آوارہ مزاجی کا مزا ملتا ہے جو بھی گل ہے وہ کسی پیرہن گل پر ہے جو بھی کانٹا ہے کسی دل میں چبھا ملتا ہے شوق وہ دام کہ جو رخصت پرواز نہ دے دل وہ طائر کہ اسے یوں بھی مزا ملتا ہے وہ جو بیٹھے ہیں بنے ناصح مشفق سر پر کوئی پوچھے تو بھلا آپ کو کیا ...