کھلی فضا کا ابھرتا نہیں سماں گھر میں
کھلی فضا کا ابھرتا نہیں سماں گھر میں نہیں بناتے پرندے اب آشیاں گھر میں جو چل رہی تھیں تو دہکا کئے در و دیوار رکیں ہوائیں تو بھرنے لگا دھواں گھر میں سجے ہیں فرش لہو سے تو در عذابوں سے اگی ہیں سخت زمینوں کی کھیتیاں گھر میں سکوں کی شکل ہو پیدا کوئی تو کیسے ہو یقیں ہے سرحد جاں سے ...