قومی زبان

کھلی فضا کا ابھرتا نہیں سماں گھر میں

کھلی فضا کا ابھرتا نہیں سماں گھر میں نہیں بناتے پرندے اب آشیاں گھر میں جو چل رہی تھیں تو دہکا کئے در و دیوار رکیں ہوائیں تو بھرنے لگا دھواں گھر میں سجے ہیں فرش لہو سے تو در عذابوں سے اگی ہیں سخت زمینوں کی کھیتیاں گھر میں سکوں کی شکل ہو پیدا کوئی تو کیسے ہو یقیں ہے سرحد جاں سے ...

مزید پڑھیے

میں عالم امکاں میں جسے ڈھونڈ رہا ہوں

میں عالم امکاں میں جسے ڈھونڈ رہا ہوں وہ پوچھ رہا ہے کہ کسے ڈھونڈ رہا ہوں ماضی کے بیاباں میں جو گم ہو گیا مجھ سے میں حال کے جنگل میں اسے ڈھونڈ رہا ہوں گو پیش نظر ایک تماشہ ہے ولیکن اے وجہ تماشہ میں تجھے ڈھونڈ رہا ہوں تو ہاتھ جو آتا نہیں اس کا ہے سبب کیا شاید میں تجھے تجھ سے پرے ...

مزید پڑھیے

ہم حد اندمال سے بھی گئے

ہم حد اندمال سے بھی گئے اب فریب خیال سے بھی گئے دل پہ تالا زبان پر پہرا یعنی اب عرض حال سے بھی گئے جام جم کی تلاش لے ڈوبی اپنے جام سفال سے بھی گئے خوف کم مائیگی برا ہو ترا آرزوئے وصال سے بھی گئے شورش زندگی تمام ہوئی گردش ماہ و سال سے بھی گئے یوں مٹے ہم کہ اب زوال نہیں شوق اوج ...

مزید پڑھیے

جوش جنوں بھی گردش دوراں سے کم نہ تھا

جوش جنوں بھی گردش دوراں سے کم نہ تھا دل تھا تو دشت غم بھی گلستاں سے کم نہ تھا رنگینیٔ جمال کی سرحد نہ تھی کوئی اور حوصلہ بھی حیطۂ امکاں سے کم نہ تھا کیا کیا بسی تھیں صورتیں دامان خواب میں دشت خیال شہر نگاراں سے کم نہ تھا ہر آرزو کو اپنی نہایت کی فکر تھی بازار شوق حشر کے میداں سے ...

مزید پڑھیے

مانوس ہو گئے ہیں اندھے پرانے گھر سے

مانوس ہو گئے ہیں اندھے پرانے گھر سے باہر نہیں نکلتے ہم روشنی کے ڈر سے سائے کی آرزو میں لپٹے ہوئے ہیں ہم سب سنسان راستے میں آتش زدہ شجر سے ہم خاک ہو کے بھی ہر موج ہوا سے الجھے یعنی تری وفا کا سودا گیا نہ سر سے کیا کیا نہ گل کھلیں گے کیا کیا نہ جشن ہوں گے اس کشت آرزو میں بادل کبھی ...

مزید پڑھیے

بندھا ہے عہد جنوں چشم اعتبار کے ساتھ

بندھا ہے عہد جنوں چشم اعتبار کے ساتھ اسے کہو کہ جئے عزم استوار کے ساتھ نہ ہو سکی کبھی توفیق درگزر کی اسے نہ چل سکے کبھی ہم خود بھی اقتدار کے ساتھ فقیہ شہر سے کہنا کہ دل کشادہ رکھے ملا ہے منصب اعلیٰ جو اختیار کے ساتھ نشان‌ ناقۂ لیلےٰ پہنچ سے دور نہیں کبھی چلو تو سہی دو قدم غبار ...

مزید پڑھیے

غم کی گرمی سے دل پگھلتے رہے

غم کی گرمی سے دل پگھلتے رہے تجربے آنسوؤں میں ڈھلتے رہے ایک لمحے کو تم ملے تھے مگر عمر بھر دل کو ہم مسلتے رہے صبح کے ڈر سے آنکھ لگ نہ سکی رات بھر کروٹیں بدلتے رہے زہر تھا زندگی کے کوزے میں جانتے تھے مگر نگلتے رہے دل رہا سر خوشی سے بیگانہ گرچہ ارماں بہت نکلتے رہے اپنا عزم سفر نہ ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں کہیں اس کے بھی طوفاں تو نہیں تھا

آنکھوں میں کہیں اس کے بھی طوفاں تو نہیں تھا وہ مجھ سے جدا ہو کے پشیماں تو نہیں تھا کیوں مجھ سے نہ کی اس نے سر بزم کوئی بات میں سنگ ملامت سے گریزاں تو نہیں تھا ہاں حرف تسلی کے لیے تھا میں پریشاں پہلو میں مرے دل تھا کہستاں تو نہیں تھا کیوں راستہ دیکھا کیا اس کا میں سر شام بے درد کا ...

مزید پڑھیے

بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا

بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا زہر وفا ہے گھر کی فضا میں گھلا ہوا خود اس کے پاس جاؤں نہ اس کو بلاؤں پاس پایا ہے وہ مزاج کہ جینا بلا ہوا اس پر غلط ہے عشق میں الزام دشمنی قاتل ہے میرے حجلۂ‌‌ جاں میں چھپا ہوا ہیں جسم و جاں بہم یہ مگر کس کو ہے خبر کس کس جگہ سے دامن دل ہے سلا ہوا ہے ...

مزید پڑھیے

پھر اسی شہر کا فسانہ چھیڑ

پھر اسی شہر کا فسانہ چھیڑ مطربہ طرز عاشقانہ چھیڑ ساز دل سے اٹھا تھا جو اک بار پھر وہی راگ والہانہ چھیڑ گھر ہے تاریک یورش غم سے آج اک آتشیں ترانہ چھیڑ پھر جہاں دل کشی سے ہے محروم زلف ہستی کو مثل شانہ چھیڑ بزم خوف فنا سے ہے بے دم کچھ بہ انداز جاودانہ چھیڑ آج ہر شے سے بد گماں ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5042 سے 6203