قومی زبان

حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستور وفا ہے

حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستور وفا ہے تو مثل رگ جاں ہے تو کیوں مجھ سے جدا ہے تو اہل نظر ہے تو نہیں تجھ کو خبر کیوں پہلو میں ترے کوئی زمانے سے کھڑا ہے لکھا ہے مرا نام سمندر پہ ہوا نے اور دونو کی فطرت میں سکوں ہے نہ وفا ہے میں شہر و بیاباں میں تجھے ڈھونڈ چکا ہوں بے درد تو کس حجلۂ ...

مزید پڑھیے

پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میں

پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میں تم خبر بے زار ہو اہل نظر جاتا ہوں میں جیب میں رکھ لی ہیں کیوں تم نے زبانیں کاٹ کر کس سے اب یہ اجنبی پوچھے کدھر جاتا ہوں میں ہاں میں سایہ ہوں کسی شے کا مگر یہ بھی تو دیکھ گر تعاقب میں نہ ہو سورج تو مر جاتا ہوں میں ہاتھ آنکھوں سے اٹھا کر ...

مزید پڑھیے

عذاب بے دلئ جان مبتلا نہ گیا

عذاب بے دلئ جان مبتلا نہ گیا جو سر پہ بار تھا اندیشۂ سزا نہ گیا خموش ہم بھی نہیں تھے حضور یار مگر جو کہنا چاہتے تھے بس وہی کہا نہ گیا پلٹ کے دیکھنے کی اب تو آرزو بھی نہیں تھی عاشقی ہمیں جب خوب، وہ زمانہ گیا رہے مصر کہ اٹھا دیں وہ انجمن سے ہمیں ہم اٹھنا چاہتے بھی تھے مگر اٹھا نہ ...

مزید پڑھیے

بند آنکھوں سے نہ حسن شب کا اندازہ لگا

بند آنکھوں سے نہ حسن شب کا اندازہ لگا محمل دل سے نکل سر کو ہوا تازہ لگا دیکھ رہ جائے نہ تو خواہش کے گنبد میں اسیر گھر بناتا ہے تو سب سے پہلے دروازہ لگا ہاں سمندر میں اتر لیکن ابھرنے کی بھی سوچ ڈوبنے سے پہلے گہرائی کا اندازہ لگا ہر طرف سے آئے گا تیری صداؤں کا جواب چپ کے چنگل سے ...

مزید پڑھیے

حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستور وفا ہے

حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستور وفا ہے تو مثل رگ جاں ہے تو کیوں مجھ سے جدا ہے تو اہل نظر ہے تو نہیں تجھ کو خبر کیوں پہلو میں ترے کوئی زمانے سے کھڑا ہے لکھا ہے مرا نام سمندر پہ ہوا نے اور دونوں کی فطرت میں سکوں ہے نہ وفا ہے شکوہ نہیں مجھ کو کہ ہوں محروم تمنا غم ہے تو فقط اتنا کہ تو ...

مزید پڑھیے

آہ بارگہہ حسن میں جلووں کا اثر دیکھ

آہ بارگہہ حسن میں جلووں کا اثر دیکھ حد سے نہ گزر ضبط میں اے ضبط نظر دیکھ مت پوچھ کہ کیا گزری دل شعلہ صفت پر اس دست حنائی میں مرا دامن تر دیکھ تو اس کا تمنائی ہے مت ڈر دل ناداں امید نہیں پھر بھی وہ کہتا ہے تو مر دیکھ یہ شہر ہے یا خیمہ ہے دشمن کا سپہ کا آواز کے زخموں سے لہو ہے مرا سر ...

مزید پڑھیے

حالات مری راہ میں حائل تو نہیں تھے

حالات مری راہ میں حائل تو نہیں تھے اس زندگی میں اتنے مسائل تو نہیں تھے یہ آج اچانک ہوئی کیوں ہم پہ توجہ وہ لطف و کرم پہ کبھی مائل تو نہیں تھے اک دوسرے سے دور نکل آئے ہیں ہم لوگ ہم بھی کبھی یہ فاصلے حائل تو نہیں تھے تو نے ہمیں شاید غلط انداز سے سوچا ہم تیرے تمنائی تھے سائل تو نہیں ...

مزید پڑھیے

نور افشاں ہے وہ ظلمت میں اجالوں کی طرح

نور افشاں ہے وہ ظلمت میں اجالوں کی طرح ہم نے پوجا ہے جسے دل سے شوالوں کی طرح خون امید ہوا خون تمنا گاہے دل چھلکتا ہی رہا مے کے پیالوں کی طرح زندگی تیرے تغافل کی بھی حد ہے کوئی اس قدر ناز نہ کر زہرہ جمالوں کی طرح جب فراموش کریں گے ہمیں دنیا والے اور ابھر آئیں گے ہم دل میں خیالوں ...

مزید پڑھیے

زندگی کچھ سوز ہے کچھ ساز ہے

زندگی کچھ سوز ہے کچھ ساز ہے دور تک بکھری ہوئی آواز ہے خامشی اس کی ہے مثل گفتگو ہر نظر جذبات کی غماز ہے کس طرح زندہ ہوں تجھ کو دیکھ کر زندگی مجھ پر تبسم ساز ہے جاں فزا نغمات کا خالق ہے یہ دل اگرچہ اک شکستہ ساز ہے اس طرح قائم ہے رقص زندگی ساز اس کا ہے مری آواز ہے کیا بتاؤں آج کے ...

مزید پڑھیے

یہ آئنہ تھا مگر غم کی رہ گزار میں تھا

یہ آئنہ تھا مگر غم کی رہ گزار میں تھا اٹا ہوا مرا دل درد کے غبار میں تھا قدم قدم پہ کئی رنگ کے تھے ہنگامے عجیب لطف ستم ہائے روزگار میں تھا نہ کر سکا میں فراموش اس کی کوئی بات مرا خیال کہ یہ میرے اختیار میں تھا جنوں کے دشت میں پیہم بھٹک رہا تھا دل مگر یہ ذہن حقائق کے کارزار میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5044 سے 6203