حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستور وفا ہے
حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستور وفا ہے تو مثل رگ جاں ہے تو کیوں مجھ سے جدا ہے تو اہل نظر ہے تو نہیں تجھ کو خبر کیوں پہلو میں ترے کوئی زمانے سے کھڑا ہے لکھا ہے مرا نام سمندر پہ ہوا نے اور دونو کی فطرت میں سکوں ہے نہ وفا ہے میں شہر و بیاباں میں تجھے ڈھونڈ چکا ہوں بے درد تو کس حجلۂ ...