قومی زبان

بے بسی ہے خمار ہے کیا ہے

بے بسی ہے خمار ہے کیا ہے نام اس کا بھی پیار ہے کیا ہے تیرا ہر وقت یوں نظر رکھنا یہ ترا اعتبار ہے کیا ہے کل تلک پر غرور آدم تھا آج مشت غبار ہے کیا ہے ہو چلے ہم تو نام کے عاشق نام نقش و نگار ہے کیا ہے نام اس کا کسے نہیں معلوم عرشؔ جو دل فگار ہے کیا ہے

مزید پڑھیے

مے پرستی میں ہی گزر جاؤں

مے پرستی میں ہی گزر جاؤں اس سے پہلے کہ میں سدھر جاؤں اپنا وعدہ نبھا نہیں سکتا کاش اس آنکھ سے اتر جاؤں مجھ کو مت اس نگاہ سے دیکھو یہ نہ ہو اب کہ میں ٹھہر جاؤں یار ہوں سب کا میں اگر خوش ہوں غیر ہوں میں جو منتشر جاؤں آج کتنی خوشی کا دن تھا عرشؔ اب مجھے چاہیے کہ مر جاؤں

مزید پڑھیے

اندھیرا ہی اندھیرا ہے

خواب عدم عالم خاموش ہے اس تیرگی کو چیرتی سکوت کو چھیڑتی بڑھ رہی ہے ریل میں خواب میں ہوں اور سب سو رہے ہیں کھڑا ہوں دروازے پہ کب سے نہ جانے کب سے کہیں دور دکھتی ہے کچھ روشنی کچھ عمارتیں کوئی بیداری کا آثار ٹمٹماتا ہے ایک جگنو کی مانند کتنی تیز جا رہی ہے ریل جو ہے ہی نہیں چھوٹ ...

مزید پڑھیے

آپ کے نام

تری چشم خنداں ترا یہ تبسم فلک سے تکے ہیں سبھی ماہ و انجم بہاروں کے موسم تمہیں ڈھونڈتے ہیں تمہیں چاہتے ہیں تمہیں پوجتے ہیں تمہیں دیکھ کر یہ ہوا جھومتی ہے زمیں ناچتی ہے قدم چومتی ہے بتاؤں میں کیسے کہ کتنی حسیں ہو نہیں آفریں وہ جو تم سا نہیں ہو اگر چار ہی لفظ کہنے ہوں مجھ کو مری ...

مزید پڑھیے

مجاز کی یاد میں

میری سب مجبوریاں کہتی ہیں صحراؤں میں چل پھر انہیں تنہائیوں میں پھر سے آزاروں میں چل یا شبستان دگر میں موت کے باغوں میں چل اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں صبح نو کی حسرتیں سب شام ہو کے رہ گئیں آرزوئیں خواہشیں آلام ہو کے رہ گئیں ساری خوشیاں قیدیٔ ارقام ہو کے رہ گئیں اے غم ...

مزید پڑھیے

پہچان

حادثوں میں کوئی شخص نہیں مرتا لوگ مرتے ہیں بھیڑ مرتی ہے اور بھیڑ کی کوئی پہچان نہیں ہوتی ان ستاروں کی طرح رات جو ستارہ زیادہ چمکے تم سمجھنا میں وہی ہوں

مزید پڑھیے

شور دروں

زرد تاروں سے نکل کر روشنی بھی ڈھونڈھتی ہے راہ شاید سو بکھر جاتی ہے ہر اک سمت گویا ڈھونڈ لے گی وہ ہر اک منزل ہر اک رستے پہ چل کے کاش میں بھی دیکھ پاتا ساری راہوں پہ سفر کر جان پاتا چھوڑ آیا ہوں میں کیا کیا اور کیا کیا تک رہا ہو میری راہیں روز محشر تک خدایا کون لیکن چل سکا ہے کون چل ...

مزید پڑھیے

جاؤں کہاں شعور ہنر کس کے پاس ہے

جاؤں کہاں شعور ہنر کس کے پاس ہے آنکھیں ہیں سب کے پاس نظر کس کے پاس ہے حد نظر میں منزل مقصود ہے مگر جائے گا کون رخت سفر کس کے پاس ہے زخموں میں ہو رہے ہیں اضافے نئے نئے لیکن نہیں خبر کہ تبر کس کے پاس ہے ہم ہیں بقول ان کے اگر تیرگی پسند پھر دوستو کلید سحر کس کے پاس ہے میں قامت شجر کا ...

مزید پڑھیے

ششدر و حیران ہے جو بھی خریداروں میں ہے

ششدر و حیران ہے جو بھی خریداروں میں ہے اک سکوت بے کراں ہر سمت بازاروں میں ہے نوبت قحط مسیحائی یہاں تک آ گئی کچھ دنوں سے آرزوئے مرگ بیماروں میں ہے وہ بھی کیا دن تھے کہ جب ہر وصف اک اعزاز تھا آج تو عظمت قباؤں اور دستاروں میں ہے اڑ رہے ہیں رنگ پھولوں کے فقط اس بات پر التفات فصل گل ...

مزید پڑھیے

کہیں تو پھینک ہی دیں گے یہ بار سانسوں کا

کہیں تو پھینک ہی دیں گے یہ بار سانسوں کا اٹھائے بوجھ جو پھرتے ہیں یار سانسوں کا انا غرور تکبر حیات کچھ بھی نہیں کہ سارا کھیل ہے پیارے یہ چار سانسوں کا چلو یہ زندگی زندہ دلی سے جیتے ہیں بڑھے گا اس طرح کچھ تو وقار سانسوں کا گلابی ہونٹ وہ ہونٹوں پہ رکھ کے کہتی تھی سدا رہے گا یہ تجھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5017 سے 6203