قومی زبان

چلا تھا آسماں چھونے اڑان سے بھی گیا

چلا تھا آسماں چھونے اڑان سے بھی گیا پرائے میں نہ رہا خاندان سے بھی گیا یقین ٹوٹا تو اپنوں پہ اعتبار کیا مرے خیال سے وہم و گمان سے بھی گیا پرائے لوگوں سے اس درجہ انسیت رکھی کہ اپنے لوگوں کے یکسر دھیان سے بھی گیا ضرورتوں کو تعلق پہ فوقیت کیا دی خودی بھی جاتی رہی مہربان سے بھی ...

مزید پڑھیے

خدا کی مجھ پہ نصرت ہو رہی ہے

خدا کی مجھ پہ نصرت ہو رہی ہے غزل کہنے پہ قدرت ہو رہی ہے جسے دیکھو وہی تلوار سا ہے محبت اب غنیمت ہو رہی ہے دعا دے کر گیا تھا ایک سائل مری روٹی میں برکت ہو رہی ہے صلہ بس یہ ملا ترک وطن کا ہماری گھر میں وقعت ہو رہی ہے وہ سب سے مل رہا ہے اتنا جھک کر جہاں جتنی ضرورت ہو رہی ہے گل و ...

مزید پڑھیے

گلستاں چھوڑتے ہیں اور صحرا چھوڑ دیتے ہیں

گلستاں چھوڑتے ہیں اور صحرا چھوڑ دیتے ہیں ترے گھر جو نہ جائے ہم وہ رستہ چھوڑ دیتے ہیں شکن آلودہ ماتھے ہو گئے بے باک گوئی پر چلو ایسا ہے تو حق بات کہنا چھوڑ دیتے ہیں ملاقاتیں مسلسل ہوں مگر کھل کر نہ ہوں باتیں ہم ایسی کیفیت میں ملنا جلنا چھوڑ دیتے ہیں خدا کے سامنے جب سر بہ سجدہ ...

مزید پڑھیے

ریگزاروں میں پل رہا ہوں میں

ریگزاروں میں پل رہا ہوں میں چاندی سونا اگل رہا ہوں میں شکل و صورت بدل رہا ہوں میں آئنے میں مچل رہا ہوں میں فاصلہ اب بہت ضروری ہے تیری قربت سے جل رہا ہوں میں جب سے حصے میں شہرتیں آئیں چند آنکھوں میں کھل رہا ہوں میں نقش پا ہی عدو نہ بن جائے اپنی راہیں بدل رہا ہوں میں قبل اس کے ...

مزید پڑھیے

جن لغزشوں کے دہر میں جھنڈے بلند ہیں

جن لغزشوں کے دہر میں جھنڈے بلند ہیں ایوان زندگی کے وہی نقشبند ہیں بے سائیگی نے ہم کو بنایا ہے تیز گام ہم لوگ سوکھے پیڑوں کے احسان مند ہیں لفظوں کے قحط ہی کی نوازش کہیں اسے تابوت ذہن میں جو خیالات بند ہیں تو اپنا مال پہلے حریصوں میں بانٹ دے کیا ہے ہمارا ہم تو قناعت پسند ہیں اس ...

مزید پڑھیے

حادثے زیر و بم پیچ و خم راہ دیکھ

حادثے زیر و بم پیچ و خم راہ دیکھ گاہ چل گاہ رک گاہ مڑ گاہ دیکھ طول فہرست حاجات کچھ رحم کر میری مشکل سمجھ میری تنخواہ دیکھ بزدلوں کی طرح چھپ کے حملہ نہ کر اپنے دشمن کو بھی کر کے آگاہ دیکھ جس کو آنا نہ ہو وہ نہیں آئے گا ایک دو دن نہیں چار چھ ماہ دیکھ اپنی اوقات کا جائزہ لے ذرا اس ...

مزید پڑھیے

غم تو تھا پھر بھی بے شمار نہ تھا

غم تو تھا پھر بھی بے شمار نہ تھا نیزہ سینے کے آر پار نہ تھا میرے گرنے پہ کیوں ہے استعجاب میں تو ویسے بھی شہسوار نہ تھا وہ جو پھرتا تھا لے کے شیر کی کھال اس کا مارا ہوا شکار نہ تھا کیسے رشتے ہیں اس کی موت کے بعد خون خود اس کا سوگوار نہ تھا ہم بھی سیراب ہو چکے ہوتے مطلع بخت ابر بار ...

مزید پڑھیے

جیون رت کا زرد سفر

جسم شکن آلود تھکن کی چادر اوڑھے رات کو چپ کی نرم مسہری پر سویا ہے گم سم ہے کھویا کھویا ہے نیند کے ململ جیسے نیلے ہالے میں تیری یادیں رقص کی صورت کھوئے ہوئے سندر دیسوں کا قریہ قریہ گھوم رہی ہیں جیون کے ست رنگ پہنتے گیت کی لے پر ہولے ہولے جھوم رہی ہیں جیون رت کے زرد سفر میں آنکھوں کے ...

مزید پڑھیے

کل جب درخت نہ ہوں گے

بیا سے چڑیا چڑیا سے طوطے اور طوطے سے کوے نیل کنٹھ ووڈ پیکر اور لالی تک پرندوں جانوروں اور انسانوں کا رزق اور جیون باہم آپس میں جڑے ہوئے ہیں درختوں پودوں پھولوں اور پھلوں سے ہم سب کا جیون ہے درختوں کی ہریالی تک ہم سب ہریل ہیں کل جب درخت نہیں ہوں گے تو کچھ بھی نہ ہوگا بد بختی ہم ...

مزید پڑھیے

عالم میں اگر عشق کا بازار نہ ہوتا

عالم میں اگر عشق کا بازار نہ ہوتا کوئی کسی بندہ کا خریدار نہ ہوتا ہستی کی خرابی نظر آتی جو عدم میں اس خواب سے ہرگز کوئی بیدار نہ ہوتا کہتا ہے تجھے خاک نہ دوں غیر اذیت یہ دل میں اگر تھی تو مرا یار نہ ہوتا معلوم کسے تھی یہ تری خانہ خرابی میں جانتا ایسا تو گرفتار نہ ہوتا عالم کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4951 سے 6203