قومی زبان

اٹھ چکا دل مرا زمانے سے

اٹھ چکا دل مرا زمانے سے اڑ گیا مرغ آشیانے سے دیکھ کر دل کو مڑ گئی مژگاں تیر خالی پڑا نشانے سے چشم کو نقش پا کروں کیونکر دور ہو خاک آستانے سے ہم نے پایا تو یہ صنم پایا اس خدائی کے کارخانے سے تیری زنجیر زلف سے نکلے یہ توقع نہ تھی دوانے سے اے فغاںؔ درد دل سنوں کب تک اڑ گئی نیند اس ...

مزید پڑھیے

ہرگز مرا وحشی نہ ہوا رام کسی کا

ہرگز مرا وحشی نہ ہوا رام کسی کا وہ صبح کو ہے یار مرا شام کسی کا اس ہستئ موہوم میں ہرگز نہ کھلی چشم معلوم کسی کو نہیں انجام کسی کا اتنا کوئی کہہ دے کہ مرا یار کہاں ہے باللہ میں لینے کا نہیں نام کسی کا ہونے دے مرا چاک گریباں مرے ناصح نکلے مرے ہاتھوں سے بھلا کام کسی کا ناحق کو ...

مزید پڑھیے

کسی خطا سے ہمیں انحراف تھوڑی ہے

کسی خطا سے ہمیں انحراف تھوڑی ہے ہمارا خود سے کوئی اختلاف تھوڑی ہے بصارتوں کے علم دار ہیں یہاں کچھ لوگ ہر اک نظر پہ اندھیرا غلاف تھوڑی ہے کبھی تو ہم بھی تمہارا سراغ پا لیں گے تمہارا شہر کوئی کوہ قاف تھوڑی ہے یہ آئینہ تمہیں تم سا دکھا نہیں سکتا اگرچہ صاف ہے اتنا بھی صاف تھوڑی ...

مزید پڑھیے

جو حضرت شیخ فرمائیں محبت

جو حضرت شیخ فرمائیں محبت سبھی کو خوب سمجھائیں محبت ضروری تو نہیں ہم زندگی میں محبت کا ثمر پائیں محبت مجھے گھیرا ہوا ہے نفرتوں نے نہ دائیں ہے نہ ہے بائیں محبت ہمارا مشورہ ہے ہر کسی کو کہ نفرت بیچ کر لائیں محبت مجھے ہاتھوں کو ان کے چومنا ہے وہ خوش ہیں کہ جو جو پائیں محبت نہیں ...

مزید پڑھیے

میں کہہ رہا ہوں سر عام برملا بابا

میں کہہ رہا ہوں سر عام برملا بابا گمان ہے بھرے میلے میں کھو گیا بابا کڑی ہے دھوپ تمازت سے پاؤں جلتے ہیں جو سائبان سروں پر تھا کیا ہوا بابا ذرا سی بات پہ آنکھیں برسنے لگتی ہیں کہاں سے ڈھونڈ کے لاؤں گا حوصلہ بابا تمہارے بعد تو لمحے نہیں گزرتے ہیں ابھی تو عمر کا باقی ہے مرحلہ ...

مزید پڑھیے

ایک نیا واقعہ عشق میں کیا ہو گیا

ایک نیا واقعہ عشق میں کیا ہو گیا دل میں کہیں پھر کوئی زخم ہرا ہو گیا بزم طرب بھی سجی محفل غم بھی سجی کون ملا تھا مجھے کون جدا ہو گیا اپنی خوشی سے مجھے تیری خوشی تھی عزیز تو بھی مگر جانے کیوں مجھ سے خفا ہو گیا میں تو نہیں مانگتا اس کے سوا کچھ صلہ تیری نظر ہو گئی میرا بھلا ہو ...

مزید پڑھیے

اک پل میں کیا کچھ بدل گیا جب بے خبروں کو خبر ہوئی

اک پل میں کیا کچھ بدل گیا جب بے خبروں کو خبر ہوئی میں تنہائی میں چھپا رہا جب مجھ پر اس کی نظر ہوئی اک چاند چمک کر چلا گیا پھر کتنی گھڑیاں گزر گئیں مجھ کو تو کچھ بھی خبر نہ تھی کب رات ہوئی کب سحر ہوئی تھی حسن کی چھب اک عجب ادا جب پھول سا چہرہ مہک اٹھا وہ منظر مجھ کو جچا بہت پھر عمر ...

مزید پڑھیے

لگا ہو دل تو خیالات کب بدلتے ہیں

لگا ہو دل تو خیالات کب بدلتے ہیں یہ انقلاب تو اک بے دلی میں پلتے ہیں نکل چکے ہیں بہت دور قافلے والے ہمیں خبر نہیں ہم کس کے ساتھ چلتے ہیں کبھی ہمیں بھی ملاؤ تو ایسے لوگوں سے کہ جن کی آنکھ میں اب تک چراغ جلتے ہیں یہ رات ایسی ہوائیں کہاں سے لاتی ہے کہ خواب پھولتے ہیں اور زخم پھلتے ...

مزید پڑھیے

مجھ پر عنایتیں ہیں کئی صاحبان کی

مجھ پر عنایتیں ہیں کئی صاحبان کی کچھ ہیں زمین والوں کی کچھ آسمان کی اپنے سفر کا تنہا مسافر نہیں ہوں میں عزت جڑی ہے مجھ سے مرے خاندان کی وہ مجھ کو آزما کے کڑی دھوپ میں رہا مجھ کو خزاں بہار لگی امتحان کی خسروؔ امیر کی یا برہمن کی ہو غزل محتاج کب رہی ہے کسی بھی زبان کی ہندی کی ...

مزید پڑھیے

کیا خبر تھی رنجشیں ہی درمیاں رہ جائیں گی

کیا خبر تھی رنجشیں ہی درمیاں رہ جائیں گی ہم گلے ملتے رہیں گے دوریاں رہ جائیں گی یہ نگر بھی کارخانوں کا نگر ہو جائے گا ان درختوں کی جگہ کچھ چمنیاں رہ جائیں گی دھیرے دھیرے شور سناٹوں میں گم ہو جائے گا اور سڑکوں پر چمکتی بتیاں رہ جائیں گی رات جس دم اپنے کمبل میں چھپا لے گی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4952 سے 6203