قومی زبان

بسکہ دیدار ترا جلوۂ قدوسی ہے

بسکہ دیدار ترا جلوۂ قدوسی ہے دامن وصل بھی آلودۂ مایوسی ہے ہے کہاں بوئے وفا اس دہن شیریں میں غنچہ لب تیری زباں ہم نے بہت چوسی ہے یار گو خون مرا مثل حنا ہو پامال لیکن اپنے تئیں منظور قدم بوسی ہے دل مرا خاک شگفتہ ہو چمن میں جا کر گل میں یہ رنگ کہاں ایک تری بو سی ہے ایک دن زلف کے ...

مزید پڑھیے

دل دھڑکتا ہے کہ تو یار ہے سودائی کا

دل دھڑکتا ہے کہ تو یار ہے سودائی کا تیرے مجنوں کو کہاں پاس ہے رسوائی کا برگ گل سے بھی کم اب کوہ غم اس نے جانا یہ بھروسا تو نہ تھا دل کی توانائی کا کیجیے چاک گریباں کو بہار آئی ہے ذکر بے لطف ہے یاں صبر و شکیبائی کا سرو ثابت قدم اس واسطے گلشن میں رہا نہیں دیکھا کبھی جلوہ تری رعنائی ...

مزید پڑھیے

سوچوں کی گہری جھیل میں اترا ہوا ہوں میں

سوچوں کی گہری جھیل میں اترا ہوا ہوں میں پوچھو نہ کس خیال میں ڈوبا ہوا ہوں میں کب تک مرے وجود کی ڈھونڈو گے کرچیاں شیشے کی طرح ٹوٹ کے بکھرا ہوا ہوں میں پرسش ضرور ہوگی یہ میدان حشر میں ماضی کو سوچ سوچ کے سہما ہوا ہوں میں کیا پوچھتے ہو مجھ سے دل مضمحل کا حال رنگ خیال یار سے بہلا ہوا ...

مزید پڑھیے

ذرا سی روشنی کے واسطے اے مہرباں میں نے

ذرا سی روشنی کے واسطے اے مہرباں میں نے جلا ڈالا ہے دیکھو خود ہی اپنا آشیاں میں نے ستم دیکھو اسی نے زہر گھولا زندگانی میں جسے سمجھا کیا اب تک رفیق و راز داں میں نے نہ پوچھو کتنے ارمانوں کی لاشیں دفن کیں میں نے سجائی ہیں تمناؤں کی کتنی ارتھیاں میں نے قدم راہ محبت میں سنبھل کر ...

مزید پڑھیے

کسی نے کر لیا عہد وفا معلوم ہوتا ہے

کسی نے کر لیا عہد وفا معلوم ہوتا ہے ہوا ہے درد اپنی خود دوا معلوم ہوتا ہے ترے صفحہ پہ ہستی یہ لکھا معلوم ہوتا ہے کہ انساں اک مسافر ہے تھکا معلوم ہوتا ہے ادھر یادیں تری ہیں اور ادھر دل کی رگیں ٹوٹی بچھڑتا ایک سے اب دوسرا معلوم ہوتا ہے وہی یادیں ہیں لیکن کیفیت ہے دوسری دل کی وہی ...

مزید پڑھیے

تیری نظر میں عالم میری نظر میں تو ہے

تیری نظر میں عالم میری نظر میں تو ہے اک دل کے ہاتھ میں اب اک دل کی آبرو ہے فطرت کا رنگ لے کر پھرتی جو چار سو ہے اک بے گناہ دل کی معصوم آرزو ہے پژمردہ گل چمن کا کلیوں سے کہہ رہا ہے پھولوں کی خوش نمائی اک راز رنگ و بو ہے جب حد سے بڑھ گئی کچھ ہر حد مری خوشی کی میں نے سمجھ لیا کہ اب ختم ...

مزید پڑھیے

انا منہ آنسوؤں سے دھو رہی ہے

انا منہ آنسوؤں سے دھو رہی ہے ضرورت سر بہ سجدہ ہو رہی ہے مری دشمن مری بے باک گوئی مری راہوں میں کانٹے بو رہی ہے ریا کاری لئے جاتی ہے سبقت حقیقت سر جھکائے رو رہی ہے زمانہ مصلحت پرور ہوا ہے ضرورت آدمیت کھو رہی ہے کسی کی شخصیت مجروح کر دی زمانے بھر میں شہرت ہو رہی ہے

مزید پڑھیے

ایسے ہوتا ہے گماں آنکھوں سے

ایسے ہوتا ہے گماں آنکھوں سے جیسے اٹھتا ہو دھواں آنکھوں سے کوئی جمشید کا ساغر تو نہیں دیکھ لوں سارا جہاں آنکھوں سے اب کہاں تاب نظر ہے دیکھوں کوئی مقتل کا سماں آنکھوں سے قصۂ درد سناتے کیوں ہو صاف ہوتا ہے بیاں آنکھوں سے یہ تو احسان خداوندی ہے دیکھ سکتا ہوں جہاں آنکھوں سے

مزید پڑھیے

کوشش مصالحت کی تو لیل و نہار کی

کوشش مصالحت کی تو لیل و نہار کی ہر لمحہ کیفیت ہے مگر انتشار کی گجرات دل ہے گر مرا کشمیر ہے قلم لکھتا ہوں داستان بدن کے چنار کی عقل و خرد ہمارے نہ کچھ کام آ سکے جوش جنوں نے آبرو رکھ لی ہے دار کی سب مرحلے تمام ہوئے جیت کے مگر بے مہریٔ رفیق ہوئی وجہ ہار کی سانسوں پہ اختیار نہ دنیا ...

مزید پڑھیے

ادھورے خواب کی تعبیر ہو جائے

ادھورے خواب کی تعبیر ہو جائے محل پانی پہ اک تعمیر ہو جائے زمیں تا آسماں بکھرا ہوا ہوں سمٹنے کی کوئی تدبیر ہو جائے جسے چاہوں اسے اپنا بنا لوں زباں میں وہ مری تاثیر ہو جائے رعونت سر اٹھائی ناچتی ہے کسی کی جانے کب تحقیر ہو جائے فلک سے جب کوئی ٹوٹے ستارہ زمیں کو فکر دامن گیر ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4950 سے 6203