بسکہ دیدار ترا جلوۂ قدوسی ہے
بسکہ دیدار ترا جلوۂ قدوسی ہے دامن وصل بھی آلودۂ مایوسی ہے ہے کہاں بوئے وفا اس دہن شیریں میں غنچہ لب تیری زباں ہم نے بہت چوسی ہے یار گو خون مرا مثل حنا ہو پامال لیکن اپنے تئیں منظور قدم بوسی ہے دل مرا خاک شگفتہ ہو چمن میں جا کر گل میں یہ رنگ کہاں ایک تری بو سی ہے ایک دن زلف کے ...