قومی زبان

اپنی آنکھیں جو بند کر دیکھوں

اپنی آنکھیں جو بند کر دیکھوں سبز خوابوں کا میں سفر دیکھوں ڈوبنے کی نہ تیرنے کی خبر عشق دریا میں بس اتر دیکھوں بعد اس کے نہیں خبر کیا ہے آئنے تک تو چشم تر دیکھوں دل میں بجتا ہوا دھڑکتا ہوا اپنی تنہائی کا گجر دیکھوں بین کرتی ہوئی بہاروں میں خود میں اک شور خیر و شر دیکھوں خواب ...

مزید پڑھیے

صدیوں کو بے حال کیا تھا

صدیوں کو بے حال کیا تھا اک لمحے نے سوال کیا تھا مٹی میں تصویریں بھر کے کوزہ گر نے کمال کیا تھا باہر بجتی شہنائی نے اندر کتنا نڈھال کیا تھا جرم فقط اتنا تھا میں نے اک رستے کو بحال کیا تھا خوشبو جیسی رات نے میرا اپنے جیسا حال کیا تھا ایک سنہرے ہجر نے مجھ سے کتنا سبز وصال کیا ...

مزید پڑھیے

بہت سے ہم نے سمجھوتے کیے ہیں

بہت سے ہم نے سمجھوتے کیے ہیں کسی کے ساتھ اب تک یوں جئے ہیں بہت ڈرتا ہے جو رسوائیوں سے مرے اشعار تو اس کے لئے ہیں ہمیں دیکھا تو اکثر چپکے چپکے تمہارے چرچے لوگوں میں ہوئے ہیں نہ جانے دور تک کیوں بات پہنچی لبوں کو آج تک ہم تو سیے ہیں اسے عادت ہے لیکن بھولنے کی کسی نے چند وعدے تو ...

مزید پڑھیے

دعائیں مانگ کے دل کو قرار رہتا ہے

دعائیں مانگ کے دل کو قرار رہتا ہے ترے کرم کا ہمیں انتظار رہتا ہے وہ میرے درد کو پڑھتا ہے میرے چہرے سے نمی ہو آنکھ میں تو بے قرار رہتا ہے اگر کبھی میں جھڑک دوں کسی سوالی کو مرا ضمیر بہت شرمسار رہتا ہے جب ایک فرقے کے لوگوں پہ ٹوٹتے ہیں ستم تماش بینوں میں ہی شہریار رہتا ہے یہ سچ ...

مزید پڑھیے

خستہ دل ہیں نہ ہمیں اور ستانا لوگو

خستہ دل ہیں نہ ہمیں اور ستانا لوگو ذکر اس کا نہ زباں پر کبھی لانا لوگو عقل تیار تو ہے ترک تعلق کو مگر اتنا آسان نہیں دل کو منانا لوگو جا بجا ڈھونڈھتی پھرتی ہیں نگاہیں جس کو جانے کس شہر میں ہے اس کا ٹھکانہ لوگو دور تک پھیل گئی بات ہماری اس کی کل لکھا جائے گا اک اور فسانہ ...

مزید پڑھیے

چھوڑ کر تیری مٹی کدھر جائیں گے

چھوڑ کر تیری مٹی کدھر جائیں گے اے وطن تجھ میں اک دن بکھر جائیں گے دور رہ کر جہاں سے گزر جائیں گے گھر جو آ جاؤ تم تو ٹھہر جائیں گے یوں نہ بکھرو ذرا حوصلہ تو رکھو دکھ بھرے دن کبھی تو گزر جائیں گے بھیج کر کچھ رقم بوڑھے ماں باپ کو قرض کیا پرورش کے اتر جائیں گے کتنی مدت سے گھر کو ...

مزید پڑھیے

دشمنی مجھ سے آ نبھا تو سہی

دشمنی مجھ سے آ نبھا تو سہی میری حالت پہ مسکرا تو سہی آگ میں گھر گیا ہے پھر مومن معجزہ اے خدا دکھا تو سہی اک تعلق بنا رہے تجھ سے مت وفا کر مگر ستا تو سہی جی تو کرتا ہے تجھ سے بات کروں تو بھی مجھ سے نظر ملا تو سہی تیرے میرے کی بات جانے دے عمر کتنی بچی بتا تو سہی کیسے خود کو سنبھال ...

مزید پڑھیے

دھوپ سر سے گزرنے والی ہے

دھوپ سر سے گزرنے والی ہے زندگی شام کرنے والی ہے آج رشتوں کو جوڑ کر رکھیے کل تو ہستی بکھرنے والی ہے یہ جو بل کھا کے چل رہی ہے بہت یہ ندی تو اترنے والی ہے پھر بگولا اٹھا ہے بستی میں پھر قیامت گزرنے والی ہے یورش رنج و غم سے تو آصفؔ بن کے کندن نکھرنے والی ہے

مزید پڑھیے

ڈر

عمر کی دھوپ ڈھلنے والی ہے زندگی شام کرنے والی ہے کوئی آواز دے رہا ہے مجھے ساتھ چلنے کو کہہ رہا ہے مجھے جانا سب کو ہے جانا ہی ہوگا ڈر نہیں یہ کہ جانے کیا ہوگا کس طرح روح بدن کو چھوڑے گی اس کا مسکن بھلا کہاں ہوگا جانے کیسا نیا مکاں ہوگا گور میں جانے کیسی گزرے گی ریزہ ریزہ بدن جو بکھرے ...

مزید پڑھیے

آئینہ

مری بالکل نئی اور خوب صورت ڈائری پر جب اس کے ننھے منے ہاتھ ٹیڑھی میڑھی لکیریں کھینچ کر اپنے بچپن کو پیش کرتے ہیں تو مجھے بالکل غصہ نہیں آتا اسے حق ہے کہ وہ اپنی معصوم خواہشات اپنی سوچ اپنی چھوٹی سی دنیا کو کاغذ پر اتار دے اپنے دماغ کی ہر گرہ کھول کر رکھ دے جوں کا توں اپنا بچپن کاغذ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4931 سے 6203