قومی زبان

ان کو سب لگتے ہیں چہرے خوب صورت

ان کو سب لگتے ہیں چہرے خوب صورت جن کے لگتے ہیں نظریے خوب صورت جی میں آتا ہے جلا دوں اپنی غزلیں شعر وہ کہتا ہے اتنے خوب صورت چاہت ارماں آرزو خواہش تمنا اک بلا کے نام کتنے خوب صورت اوہ اچھا عکس تھا کل شب تمہارا یعنی وہ تمہی تھے تم سے خوب صورت

مزید پڑھیے

بتائیں کیا کہ کتنا جانتے ہیں

بتائیں کیا کہ کتنا جانتے ہیں تمہیں تم سے زیادہ جانتے ہیں خموشی سے عیاں ہوتا ہے ان کی وہ اپنی بات کہنا جانتے ہیں بہت پڑھ کر ہوا یہ علم ہم کو کہ ہم کتنا ذرا سا جنتے ہیں قلم کاغذ ہمارے شیر اور تم اسے ہم اپنی دنیا جانتے ہیں ہم آ جاتے ہیں اکثر اپنے آگے مگر ہم بچ نکلنا جانتے ...

مزید پڑھیے

لفظ خوشبو میں ڈھالتا منظر

لفظ خوشبو میں ڈھالتا منظر لیجئے شعر بن گیا منظر کیسا سندر تھا اک زمانے میں تیری آنکھوں میں ڈوبتا منظر رنگ موسم سے اڑ گئے سارے کینوس پر پڑا رہا منظر آپ کا جسم بھی ہے مٹی کا ایک نازک سا بھربھرا منظر مجھ کو حیرت سے مار ڈالے گا آئنے میں سجا ہوا منظر آہ کمرے میں جاگتے رہنا آہ ...

مزید پڑھیے

ہمیں بھی مسکرانا چاہیے تھا

ہمیں بھی مسکرانا چاہیے تھا مگر کوئی بہانہ چاہیے تھا محبت ریل کی پٹری نہیں تھی کہیں تو موڑ آنا چاہیے تھا ترے کاندھے پہ رکھ کر سر کسی دن ہمیں بھی بھول جانا چاہیے تھا مری لغزش خدا سے کیوں شکایت ارے مجھ کو بتانا چاہیے تھا یہ تم نے خود کو پتھر کر لیا کیوں مری جاں ٹوٹ جانا چاہیے ...

مزید پڑھیے

کس کے ماتم میں رو رہی ہے رات

کس کے ماتم میں رو رہی ہے رات چھپ کے بانہوں میں سو رہی ہے رات دکھ ہے ٹھہرا ہوا نگاہوں میں تیری یادیں بلو رہی ہے رات مجھ کو خوابوں کے باغ میں لا کر گھنے جنگل میں کھو رہی ہے رات روشنی نے لگائے جو الزام بہتی آنکھوں سے دھو رہی ہے رات اس کو بانہوں میں بھر رہی ہوں میں چاند خود میں سمو ...

مزید پڑھیے

شام دل کو بجھائے جاتی ہے

شام دل کو بجھائے جاتی ہے تیری باتیں سنائے جاتی ہے یہ اداسی بھی خوب صورت ہے مجھ کو رنگیں بنائے جاتی ہے رات کی آنکھ سے اسے دیکھو کیسے منظر دکھائے جاتی ہے ایک لمحے کی روشنی مجھ میں ایک دنیا بسائے جاتی ہے کتنی گمبھیر ہے یہ تاریکی میرے اندر سمائے جاتی ہے ہجر کی شب ہماری جانب ...

مزید پڑھیے

اپنی حالت پہ آنسو بہانے لگے

اپنی حالت پہ آنسو بہانے لگے سرد راتوں میں خود کو جگانے لگے سرخ تاروں کے ہم راہ کر کے سفر خواب زاروں سے کیوں آگے جانے لگے دور بجنے لگی ہے کہیں بانسری ہم بھی زندان میں گیت گانے لگے جو بصارت بصیرت سے محروم ہیں شہر کے آئنوں کو سجانے لگے ہم نے جب حال دل ان سے اپنا کہا وہ بھی قصہ کسی ...

مزید پڑھیے

سنہری دھوپ سے چہرہ نکھار لیتی ہوں

سنہری دھوپ سے چہرہ نکھار لیتی ہوں اداسیوں میں بھی خود کو سنوار لیتی ہوں مرے وجود کے اندر ہے اک قدیم مکان جہاں سے میں یہ اداسی ادھار لیتی ہوں کبھی کبھی مجھے خود پر یقیں نہیں ہوتا کبھی کبھی میں خدا کو پکار لیتی ہوں جنم جنم کی تھکاوٹ ہے میرے سینے میں جسے میں اپنے سخن میں اتار ...

مزید پڑھیے

پو پھٹتے ہی ٹرین کی سیٹی جب کانوں میں گونجتی ہے

پو پھٹتے ہی ٹرین کی سیٹی جب کانوں میں گونجتی ہے ثروت تیری یاد مرے دل کے خانوں میں گونجتی ہے شہزادی کے ہجر میں لکھے کچھ لفظوں کی حیرانی شہزادی کے گھر تک آتے مے خانوں میں گونجتی ہے شہزادی کے کانوں میں جو بات کہی تھی اک تو نے بعد ترے وہ بات ترے ہی افسانوں میں گونجتی ہے جان سے جانے ...

مزید پڑھیے

تیری یادیں بحال رکھتی ہے

تیری یادیں بحال رکھتی ہے رات دل پر وبال رکھتی ہے شب غم کی یہ راگنی بن میں بانسری جیسی تال رکھتی ہے دل کی وادی سے اٹھنے والی کرن وحشتوں کو اجال رکھتی ہے بام و در پر اترنے والی دھوپ سبز رنگ ملال رکھتی ہے شام کھلتی ہے تیرے آنے سے لب پہ تیرا سوال رکھتی ہے ایک لڑکی اداس صفحوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4930 سے 6203